
اگرکسی نے کالاباغ ڈیم بنانے کے بارے میں سوچا بھی توپھر پاکستان نہیں رہے گا، صوبہ ہزارہ کاخواب دیکھنے والے سن لیں، ہم توانگریزوں کی جانب سے پختونوں کو تقسیم کرنے والی لکیروں کو ختم کرناچاہتے ہیںایسے میںمزید کوئی لکیرکیسے کھینچی جاسکتی ہے۔ کپتان کواگر نیٹوسپلائی بندکرنے کاشوق ہے توسندھ اورپنجاب میں کریں، پختونوںکو دنیا میںکیوں بدنام کیاجا رہاہے۔

اوراگر انھیں احتجاج کااتنا ہی شوق ہے توپھر مہنگائی کے خلاف احتجاج لاہورمیں ہی کیوں، پشاورمیں کیوںنہیں؟ بشیراحمد بلورکی پہلی برسی پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی نے کہاکہ یہ ہمارے بشیر بلور اور میاں افتخار حسین تھے جوہر دھماکے میں موقع پرپہنچ جایاکرتے تھے۔ آج توحکمران خوف کی وجہ سے اپنے ایم پی ایز کے جنازوں میں بھی نہیںجاتے۔ انھوںنے کہاکہ اب افغانستان میں تباہ کرنے کے لیے کچھ نہیں بچا اور اب اگلانمبر پاکستان اور اس میں سب سے پہلے خیبرپختونخواکا ہے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔