سعد اللہ جان برق
-
نکاح اور طلاق
انسان جسے خدا نے احسن تقویم پر پیدا کیا ہے جب اسفلہ سافلین میں گرتا ہے تو وہ جانور بن جاتا ہے۔
-
چائے کی چاہ
خدایا اب یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
-
سمجھوتہ ،طے، پا جائے گا
سمجھوتہ۔ طے۔ پا جاتا ہے لگ گیا جب وہ گلے، سارا گلہ جاتا رہا
-
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
’’پری‘‘نہفہ رخ و دیودر کرشمہ حسن بسوزعقل زحیرت کہ ایں چہ بولعجبی ست
-
بات حساب کی ہے
سارا قصور ہماری اس ناکارہ’’سمجھدانی‘‘ کا ہے کہ ہم ’’حساب ‘‘کو پشتو کا حساب سمجھ رہے تھے اور وہ اردو نکلا
-
اب تو مرنا ’’ہی‘‘ روا لگتا ہے
زمین کو سانپ اتنا ڈس چکے ہیں کہ اب پیدا بنی آدم نہ ہونگے
-
صرف جھوٹ سے پرہیز کریں
لیلائے آب و رنگ کا ڈیرا قریب ہے تارے لرز رہے ہیں سویرا قریب ہے
-
جبار مرزا کی صحافتی یادیں
پھینکنے والے بڑی دورسے پتھر پھینکیں اورمیں صرف پڑوسی کے مکان تک سوچوں
-
ملتے جلتے خیالات
گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا
-
اگر بگھارے بینگن نہ ہوتے؟
شوق کی دیوانگی طے کرگئی کتنے مقام عقل جس منزل میں تھی اب تک اسی منزل میں ہے