US
صفحۂ اول
تازہ ترین
رمضان
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
ابن مریم ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکر تصویر کا
خدیجہ چھ بچوں کی ماں ہے، بڑی بیٹی پندرہ سال کی ہے، جو اس کے ساتھ ہی کام پر آتی ہے اور گھروں میں جھاڑو پونچھا کرتی ہے
اے مالک تیرے بندے ہم ایسے ہوں ہمارے کرم
کبھی حکومت کی طرف سے صرف ایک ڈش کی پابندی تھی، یہ بھی ہوا کہ صرف پچاس مہمان بلانے کی بھی پابندی تھی، لیکن آہستہ آہستہ ساری پابندیاں ختم ہو گئیں
سن ساٹھ کی دہائی کی لڑکیاں بلا چوں چرا جوائنٹ فیملی سسٹم میں خوشی سے رہتی تھیں
اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک میں ہر طرف ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، مہنگائی کا جن کئی برسوں سے بوتل سے باہر ہے۔
قرۃ العین حیدرکو متعدد ایوارڈ بھی ملے ہیں جن میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ 1967 میں ان کے افسانے ’’پت جھڑکی آواز‘‘ پر دیا گیا۔
قرۃ العین حیدر کا ذہنی کینوس کتنا بڑا تھا، اس کا اندازہ ان کے بعض افسانوں سے لگایا جا سکتا ہے مثلاً ’’ یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے‘‘۔
زیادہ تر حادثے اس شہر میں بائیک سواروں کے ہوتے ہیں، جن میں کسی حد تک قصور خود بائیک سواروں کا بھی ہے