صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
یہ انسانی تاریخ کا ایسا موڑ ہے جو ریاضی اور طاقت کے ہر روائیتی اصول کو توڑ کر رکھ دیتا ہے
شریعتی انقلاب آنے تک دنیا میں نہیں رہے۔ لیکن اچھا ہی ہوا۔ ایران بھی وہ ملک نہیں بنا جو شریعتی چاہتے تھے۔
علی شریعتی ایران سے نکل کر لندن پہنچے اور وہاں سے سائوتھ تمپٹن چلے گئے۔ بیگم اور بیٹیاں ایران میں ہی تھیں
شاہ کی پولیس کو اس خطرے کی بو پہلے ہی آچکی تھی۔ انھوں نے تہران ایئر پورٹ پر شریعتی کو گرفتار کر لیا۔
لوح ایام، وہ انقلاب کے دنوں میں خود ایران میں موجود تھے اور اپنی کتاب میں انھوں نے علی شریعتی کا بڑا ذکر کیا ہے۔
ڈاکٹر شریعتی یہی سمجھانا چاہتے تھے کہ حق انصاف اور اصل مذہب کو ان لوگوں سے بچانا ضروری ہے
یہ ویسا ہی دھوکہ تھا جو ان قبروں میں دفن غلاموں کے ساتھ ہوا تھا۔ انھیں آزادی کی امید دلا کر ایک نئے اہرام کی تعمیر میں لگا دیا تھا۔
جب جب ہم اہرام مصر کو دیکھتے ہیں یا چین کی عظیم دیوار یا ان جیسی تاریخی عمارتوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں وہاں اصل میں کیا نظر آتا ہے۔
کتاب کا ایک اور حصہ جو اس بحث کو ایک بالکل نیا رخ دیتا ہے وہ ہے گمشدہ تاریخ کا تصور
یہ تو بالکل ایسی مثال ہے جیسے ایک بڑے کارخانے میں کچھ مخصوص بچوں کو مشینوں کے نقشے دیے جائیں اور انھیں چلانے کا فنی علم سکھایا جائے۔