صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
یہ محض ایک اسکرین نہیں رہی، یہ ایک ایسا آئینہ بن چکی ہے جس میں جدید انسان اپنا چہرہ دیکھنے سے بھی گریز کرتا ہے۔
یہ کوئی فرضی کہانی یا سائنس فکشن فلم کا اسکرپٹ نہیں ہے، یہ آج کی کارپوریٹ دنیا کی وہ زمینی حقیقت ہے جو اب تیزی سے سامنے آ رہی ہے۔
یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم اپنی تہذیبی جڑوں سے کٹ کر جس اندھی تقلید میں جی رہے ہیں، اس کا انجام یہی کوٹ ریک کے ساتھ ہونے والا خاموش اور بے ثمر رقص ہے۔
کہتے ہیں قدیم یونان میں ایک ماہر مجسمہ ساز نے اتنا حسین و جمیل پتھر کا مجسمہ تراشا کہ وہ خود اسی کے عشق میں گرفتار ہوگیا۔
یہاں درویش کا اسلوب ہمیں ایک اہم بات سکھاتا ہے۔جنگ صرف انسانوں کو نہیں مارتی، وہ وقت کے معنی بھی بدل دیتی ہے۔
کیتھرین بارکلے سے اس کی محبت اسی دنیا میں جنم لیتی ہے جسے جنگ مسلسل تباہ کررہی ہے۔
جنگ ایک ہے، مگر اس کی ادبی زبانیں متعدد ہیں۔
لڑکے نے نظریں جھکا کر آہستہ سے کہا۔ ’’سر... میرے ابو کہتے ہیں کہ ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، مگر عبادت صرف اللہ کی کرتے ہیں۔‘‘
مسئلہ یہ نہیں اٹھایا گیا کہ دولت، طاقت اور وسائل کی موجودہ تقسیم کی بنیاد کیا ہے
سرمایہ داری کا یہ مرحلہ اس کا اختتام نہیں بلکہ اس کا اپنے اصل، ننگے اور وحشیانہ روپ میں لوٹنا ہے۔