صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
ہمارے کچھ دوست بعض اوقات حکومت سے ناراضگی کے باعث اپنے ملک اور اس کی کامیابیوں کے بارے میں غلط اور نامناسب باتیں کرجاتے ہیں۔
اِس وقت ملک میں قانون کی حکمرانی کا کوئی تصور نہیں، پارلیمنٹ irrelevant ہے۔
حکمران طبقات نے یہ حال کردیا ہے قائدؒ کے پاکستان کا۔ یہ ہیں وہ عوامل جن کی بناء پر سسٹم نہیں چل رہا ۔
؎ اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں
وطنِ عزیز کے مختلف حصوں میں کہیں بدامنی اور بے چینی ہے اور کہیں دہشت گردی پھن پھیلائے کھڑی ہے
کالج میں بڑے سے بڑے بدمعاش کو شیخ صاحب گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے کلاس سے باہر نکال دیتے مگر کسی میں آنکھ اٹھانے کی بھی جرات نہ ہوتی
وفاقی یا صوبائی بجٹ میں عوام یا معاشرے کے پسے ہوئے اور معاشی دبائو کا شکار طبقے کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا جو بے حد افسوسناک ہے۔
رائٹر پر جذبات غالب آجائیں تو حقائق پامال ہوجاتے ہیں۔
بلاشبہ بھٹو صاحب قابل اور مقبول بہت تھے مگر ملک کے زیادہ تر سیاستدانوں کی طرح ان کا کوئی ٹھوس نظرّیہ نہیں تھا۔
مصنّف نے ’’دوسری تقسیم۔ سوری مسٹر جناح‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے چھٹے باب میں 1970 کے انتخابات اور اس کے نتائج اور مضمرات پر بحث کی ہے۔