US
صفحۂ اول
تازہ ترین
رمضان
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
خود اپنے لیے تو پکوان سجے ہوئے ہوں اور دوسروں کو صرف شربت یا لسّی کے دو گھونٹ پر افطار کروایا جا رہا ہے تو یہ پسندیدہ عمل نہیں ہے
’’اس ماہِ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے۔‘‘
اپنے لیے توپکوان سجے ہوئے ہوں اوردوسروں کوصرف شربت یالسّی کے دوگھونٹ پرافطار کروایا جارہا ہے تویہ پسندیدہ عمل نہیں ہے
سورۃ البقرۃ میں بھی اس مہینے کے روزے کی فرضیت کا اعلان کیا گیا ہے
’’اے لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے جس کی ایک رات (شب قدر)ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘
یہ مہینہ واقعی صبر کا ہے، اس لیے کہ اس میں جائز، حلال اور طیّب چیزوں سے بھی انسان صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک رُکتا ہے۔
’’تو جو کوئی بھی تم میں سے اس مہینے کو پائے اس پر لازم ہے کہ روزہ رکھے۔‘‘
ہماری ہم دردی کے مستحق معاشرے کے وہ لوگ ہیںجنہیں عام دنوں میں دو وقت کی روٹی بھی میسّر نہیں آتی
انسان جو بھی نیکی کرے وہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔
یہ حقیقت ہے کہ انسان کسی بھی مشق سے بغیر منصوبہ بندی اور ذہنی تیاری کے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔