متوسط طبقے کی خواتین کےلیے تربیت اورروزگار کا ذریعہ

ایک منفرد ادارہ جو خواتین کو ہنر اور تربیت کے ذریعے باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔


ناصر تیموری December 10, 2017
ٹیف فاؤنڈیشن ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں خواتین کو نہ صرف مفت پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے بلکہ تربیت کی تکمیل کے بعد اچھے اور بڑے اداروں میں ملازمتیں دینے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ (تصاویر بشکریہ مصنف)

ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ یہاں خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع کم ہی میسر آتے ہیں۔ کہیں وہ مرد کی مردانگی کا شکار ہوجاتی ہیں تو کہیں خاندانی دباؤ کا۔ کہیں معاشرے کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں انہیں آگے بڑھنے سے روک دیتی ہیں تو کہیں مشترکہ خاندانی نظام ان کی ترقی کی راہ میں حائل ہوجاتا ہے۔

آبادی کے تناسب کے دائرے میں بات کی جائے تو پاکستان میں مردوں اور خواتین کی آبادی کا تناسب تقریباً نصف ہے۔ حالیہ مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے جن میں تقریباً نصف تعداد خواتین کی ہے۔ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق بین الاقوامی سطح پر غربت بدستور ایک چیلنج ہے، دنیا میں ایک ارب 30 کروڑ افراد مکمل طور پر غربت کا شکار ہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں 70 فیصد خواتین ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر 2016 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فعال افرادی قوت میں خواتین کی شرح محض 22.9 فیصد ہے۔ خواتین معاوضے، تربیت و مہارت، قانونی و سماجی تحفظ، صحت اور لیبر قوانین کے مطابق بچوں کی پیدائش پر ملنے والی سہولیات نہ ملنے سے متاثر رہتی ہیں۔

جہاں دنیا بھر میں خواتین کی آزادی اور تحریک کی آوازیں بلند ہوتی جارہی ہیں اور عورت کو فعال کرنے کےلیے منصوبہ بندی کی جارہی ہے وہیں ہمارے ملک میں چند ایسے ادارے ہیں جو خواتین کو باقاعدہ طور پر ووکیشنل تربیت دینے کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ ان میں سر فہرست کراچی کا ایک منفرد ادارہ ٹیف فاؤنڈیشن کا ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ (TAFF-VTI) ہے جہاں خواتین کو نہ صرف مفت پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے بلکہ تربیت کی تکمیل کے بعد انہیں اچھے اور بڑے اداروں میں ملازمتیں دینے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ٹیف وی ٹی آئی (ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ) کی جانب سے پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے پسماندہ اور نظرانداز طبقے کی خواتین کو عزت کے ساتھ معاشی تحفظ ملے اور انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جائے۔ اس ضمن میں ٹیف فاؤنڈیشن کی جانب سے ووکیشنل ٹرینننگ کی فراہمی کےلیے احتیاط کے ساتھ مستحق خواتین کا انتخاب کیا جاتا ہے۔



اس پروگرام کے ذریعے پاکستان میں معمر و بیمار افراد کی تیمارداری، ہاؤس کیپنگ اور کوکنگ کےلیے فلپائن، بنگلہ دیش و دیگر ممالک سے تربیت یافتہ خواتین کو بھاری نرخوں پر بلانے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ ٹیف فاؤنڈیشن پاکستانی خواتین کو ان کاموں کےلیے پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے گا تاکہ ملکی زرِمبادلہ ملک میں ہی رہے اور پاکستانی افرادی قوت کو بھی باعزت طور پر روزگار کے مواقع ملیں۔ اسی لیے ٹیف فاؤنڈیشن مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تین پروفیشنل کورسز کروا رہی ہے جن میں معمر افراد کی دیکھ بھال، ہاؤس کیپنگ اور کوکنگ اور کسٹمر سروس اور ریٹیل اسسٹنٹ کے شعبے ہیں۔ یہ کورسز بین الاقوامی سطح کے معیار کے ساتھ سند یافتہ بھی ہیں۔ اسی وجہ سے تربیت کی تکمیل کے بعد انہیں ملٹی نیشنل اور بڑے کاروباری اداروں میں عزت کے ساتھ روزگار کا موقع ملتا ہے۔ اس ضمن میں کاروباری ادارے جیسے خوشحالی بینک، کوتھم، ایچ ایچ لا، یونی لیور، آغا خان یونیورسٹی، کریم، ہولی فیملی اسپتال، ساؤتھ سٹی اسپتال، پی اینڈ جی، ایچ آر ایس جی اور ضیاء اسکول آف انڈسٹریل کیٹرنگ کا تعاون شامل ہے جو عالمی معیار کے مطابق جدید ترین تربیت کےلیے سہولت اور نصاب کی تیاری اور بعد ازاں انہیں ملازمتوں کےلیے تعاون فراہم کررہے ہیں۔

ٹیف فاؤنڈیشن کے ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ نے نومبر 2016 میں کام کا آغاز کیا تھا اور ایک سال کے عرصے میں اب تک 100 سے زائد خواتین تربیت مکمل کر چکی ہیں جن میں سے 72 فیصد خواتین ہاؤس کیپنگ و ہوٹلنگ کے ساتھ ساتھ تیمارداری کےشعبوں میں برسرِروزگار ہیں۔ خواتین کو تیمارداری کی تربیت کی فراہمی کےلیے آغا خان یونیورسٹی اور ہولی فیملی اسپتال کے ساتھ اشتراک ہے۔ وہ خواتین جو وی ٹی آئی کی ٹریننگ سے قبل فقط 4 سے 8 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے کما رہی تھیں وہ اب کنٹریکٹ ملازمت کے ساتھ ماہانہ 20 ہزار سے 30 ہزار روپے کما رہی ہیں۔ ہوٹلنگ کے شعبے میں بھی ان کی مانگ بڑھتی جارہی ہے اور وہ ملک کی بیشتر ملٹی نیشنل فوڈ چینز اور کافی شاپس میں اپنی پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتی نظر آرہی ہیں۔ کنٹریکٹ کا عمل پاکستانی لیبر قوانین کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے جس کا انتظام وی ٹی آئی کا کیریئر پلیسمنٹ سینٹر کرتا ہے۔



ٹیف فاؤنڈیشن میں خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ خاندان کی تسلی کےلیے انہیں ادارے کا مکمل دورہ کرایا جاتا ہے۔ ہر خاتون کی ٹیف کے پورٹل پر آئی ڈی بنتی ہے، اس کا پاس ورڈ صرف اسی کے پاس ہوتا ہے اور رزلٹ بھی صرف وہیں آتا ہے۔ ہر پروگرام کےلیے 2 انسٹرکٹر ہیں تاہم کوکنگ کےلیے پانچ انسٹرکٹرز ہیں۔ یہ انسٹرکٹرز بھی بین الاقوامی اداروں سے سند یافتہ ہیں۔

یہاں زیرِتعلیم طالبات اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں:

جمشید روڈ کی 30 سالہ حمیرا کوکنگ اور ہاؤس کیپنگ کا کورس کررہی ہیں۔ ان کی تعلیم میٹرک ہے، گھر میں بزرگ والد، والدہ کی دیکھ بھال کررہی ہیں۔ اس سے قبل وہ بیوٹیشن کا کام کرتی تھیں ۔ وہ بتاتی ہیں کہ یہاں خواتین کے حقوق سے متعلق آگہی کے بارے میں تفصیل سے سمجھایا گیا ہے۔

اسی طرح لائنز ایریا کی رومانہ ہیں جنہیں اپنی دوست کے ذریعے اس ادارے (ٹیف) کے بارے میں معلوم ہوا۔ وہ اپنے والد صاحب کے ساتھ رہتی ہیں، اس سے قبل وہ اپنے گھر میں سلائی کڑھائی کرکے گزارا کرتی تھیں۔ لوگوں نے ابتداء میں ڈرایا کہ پتا نہیں کیسا ماحول ہوگا، کوئی نہیں جانتا لیکن اب انہیں دیکھ کر علاقے کی دیگر خواتین بھی اس کے کورس کرنے کےلیے آمادہ ہورہی ہیں۔

تیمارداری کا کورس کرنے ولی لائنز ایریا کی رہائشی ڈیلفین نے بتایا کہ چرچ میں اس پروگرام کے بارے میں پتا چلا۔ یہ کورس ان کےلیے بڑا معاون ثابت ہورہا ہے، کیونکہ ان کی ساس بھی 88 سال کی ہیں، ہمارا کرائے کا گھر ہے اور شوہر ملازمت کرتے ہیں۔

ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ ہاؤس کیپنگ کا کام کرنے والی خواتین کو ماسی نہیں کہا جاتا، کیونکہ یہ جھاڑو استعمال نہیں کرتیں۔ ان تربیت یافتہ پروفیشنل خواتین کو اپنے گھروں کی صفائی کےلیے خصوصی طور پر جدید سامان فراہم کیا جاتا ہے۔ ان خواتین کو روزگار کی فراہمی باقاعدہ سالانہ کنٹریکٹ کے ساتھ مشروط ہوتی ہے اور تنخواہ میں ہر سال 10 فیصد اضافے کے علاوہ دیگر سہولیات بھی شامل ہیں۔

ادارے میں زیرِتربیت خاتون رنچھوڑ لائن کی ارم ناز نے میٹرک کے ساتھ ساتھ بی ایڈ کے مساوی عالمہ کا کورس بھی کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ محلے کے اسکول میں پڑھاتی تھیں جس کے عوض انہیں صرف 3 ہزار روپے ماہانہ ملتے تھے۔ ان کے شوہر بھی کماتے ہیں تاہم گزارا ٹھیک طرح نہیں ہوپاتا۔ بڑا بیٹا 9 ویں جماعت میں پہنچ گیا ہے اور تین چھوٹے بچے بھی ہیں۔ یہا ں ہمیں ماہانہ وظیفہ ملتا ہے، شوہر نے بھی حوصلہ افزائی کی، ساس نے بھی حوصلہ بڑھایا اور 40 لڑکیوں میں سے مجھے منتخب کیا گیا۔



ٹیف فاؤنڈیشن کی سی ای او عاتکہ لطیف بتاتی ہیں کہ ابتداء میں بڑی مشکلات تھیں لیکن اب آہستہ آہستہ لوگوں کو آگہی ہوگئی ہے، ہم پر اعتماد آگیا ہے۔ جب ان خواتین کے بھائی، شوہر یہاں آتے ہیں تو اچھا ماحول دیکھ کر انتہائی خوش ہوتے ہیں۔ ان خواتین کی ملازمت کے باقاعدہ معاہدے ہوتے ہیں جس میں ادارے کی طرف سے سالانہ انکریمنٹ، پنشن و دیگر مختلف سہولیات شامل ہوتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے اچھے کاروباری اداروں میں ہوتا ہے۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ صرف اسی شعبے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے جس کی مارکیٹ میں طلب ہو ورنہ ایک ہی شعبے کے تربیت یافتہ افراد کی مارکیٹ میں آمد سے توازن خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ معاشی طور پر بہتری کا سب سے بڑا اثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ان خواتین نے اپنے بچوں کا داخلہ فوراً اچھے اسکولوں میں کروایا ہے۔ ادارے میں اگلے گروپوں کےلیے داخلوں کا آغاز ہورہا ہے جبکہ جنوری میں تدریسی عمل شروع ہوگا۔ یہاں خواتین کو اپنے تحفظ کےلیے آرمی کے ریٹائرڈ افسروں سے سیلف ڈیفنس کی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

بات یہ ہے کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تعلیم و صحت کی بنیادی ضروریات فراہم کرے۔ لیکن حکومت ان بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکام نظر آتی ہے۔ ملک کے دیگر فلاحی و سماجی اداروں کو بھی معاشرے میں اسی طرح منظم انداز سے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے کے تمام افراد کو ہر ممکن حد تک کارآمد شہری بنایا جاسکے اور پاکستان اقوامِ عالم میں بہتر مقام حاصل کرے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

تبصرے

کا جواب دے رہا ہے۔ X

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مقبول خبریں

رائے

چانس

Apr 03, 2025 02:24 AM |

اچھی صحت

Apr 03, 2025 02:17 AM |