دودھ کا دودھ پانی کا پانی
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جمہوریت کے 35 سالہ دور میں کیا ہوتا رہا؟
ہر ملک کا آئین ایک قابل احترام دستاویز اس لیے مانا جاتا ہے کہ اس میں ملک کو چلانے اور عوام کے حقوق کی حفاظت کے رہنما اصول طے کر دیے جاتے ہیں۔ قیام پاکستان کے 26 سال بعد ملک کو ایک دستور یا آئین دیا گیا جس میں عوام کے حقوق اور عوامی نمایندوں کی اہلیت کے حوالے سے کچھ شقیں شامل کی گئیں۔ ملک میں 1970ء سے لے کر 2008ء تک جو انتخابات ہوئے ان میں جہاں عوام کے حقوق لو نظر اندازکیا گیا، وہیں عوامی نمایندوں کی اہلیت کے حوالے سے آئین میں موجود دو اہم شقوں کو بھی نظرانداز کر دیا گیا ۔
23 دسمبر 2012ء کو کینیڈا سے ایک دہری شہریت رکھنے والا شہری پاکستان آیا اور اس نے یاد دلایا کہ اٹھارہ کروڑ عوام کو جس طرح دھوکا دیا اور ملک لوٹاجا رہا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آئین کی شق نمبر 63-62 پر عملدرآمد ہی نہیں ہو رہا ہے، اب یہ ڈراما نہیں چلنے دیا جائے گا، اب آنے والے الیکشن کے امیدواروں کو آئین کی شق 63-62 کی چھلنی سے گزرنا پڑے گا۔ اس بے وقت کی راگنی کو سن کر سیاسیتدانوںکو پسینہ آ گیا، وہ چیخ پڑے یہ غیر ملکی کسی بڑی سازش کے تحت یہ شور مچا رہا ہے جس کا عام انتخابات کو رکوانا ہے۔
آئین کی ان شقوں پر عملدرآمد ہوتا ہے تو انتخابات میں حصہ لینے والوں کو کاغذات نامزدگی میں بینکوں سے لیے جانے والے 20 لاکھ سے زیادہ قرض کی تفصیلات بتانا ہو گی، معاف کرائے گئے قرض کی وجوہات اور تفصیل بتانا ہو گی، چھ ماہ پہلے تک کسی کریمنل کیس میں ملوث تو نہیں تھے، یہ بتانا ہو گا، یہ بھی بتانا ہو گا کہ تین سال تک تمام ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرتے رہے ہیں۔ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے غیر ملکی دوروں پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیل بتانا ہو گی، زرعی ٹیکس کی ادائیگی کی تفصیل بتانا ہو گی، پارٹی ٹکٹ کے لیے کتنی رقم دی گئی، اس کا حساب دینا ہو گا، اگر امیدوار پہلے رکن اسمبلی رہا ہے تو اسے اپنے حلقہ انتخاب میں کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کی تفصیل بتانا ہو گی اور یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ایک پاکدامن اور دیانتدار امیدوار ہے۔
غیر ملکی سازشی کی اس بھیانک آواز نے اپنے اپنے سیاسی مچانوں پر بیٹھے عوام کو شکار کرنے والوں کی ٹانگیں ہلا دیں اور اس آواز کی زد میں آنے والے تمام متبرک و محترم لوگ متضاد پالیسیاں رکھنے کے باوجود سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور فیصلہ کیا کہ ہم اس مولوی کی سازش کو کسی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ فخرو بھائی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ وہ اس سازشی کی سازش میں نہ آئیں الیکشن کے امیدواروں پر 63-62 لاگو نہ کریں لیکن فخرو بھائی جو:
''من خوب می شناسم ایں پیران ِپارسا را''
کی تصویر تھے۔ انھوں نے ان پیران پارسا کی بات نہیں سنی، ادھر سے مایوس ہو کر وہ عدلیہ بھاگے کہ شاید بر وقت انتخابات پر ڈٹی عدلیہ ان کی بات سنے گی اور انتخابات میں دیر کرنے والی شقوں کو ختم کر دے گی، لیکن ہائے رے قسمت کہ عدلیہ نے بھی فخرو بھائی کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے کہا ''الیکشن کمیشن کرپٹ پریکٹس روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا مجاز ہے۔ 18 کروڑ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کی نمایندگی وہ ایماندار لوگ کریں جن کا ماضی بے داغ ہو۔''
پاکستان سے جانے والا یہی شخص واپس آ گیا ہے اور ببانگ دہل کہہ رہا ہے کہ آئین کی شق نمبر 63-62 کی چھلنی میں چھنے بغیر ہم کسی امیدوار کو انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیں گے اور سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ سازشی اور پراسرار قوتوں کے ایجنٹ کے پاس ہر وقت لاکھ دو لاکھ بندے موجود ہیں جب یہ سازشی اس ہجوم کو لے کر باہر نکلتا ہے تو ملک کے 65 سالوں سے دھوکا کھانے والے اٹھارہ کروڑ عوام اس کی پشت پر کھڑے رہتے ہیں۔ اسی تاریخی ہجوم کی قوت نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ الیکشن سے پہلے 63-62 کی چھلنی سے امیدواروں کو چھاننے کا انتظام کرے اور فخرو بھائی نے یہ انتظام ''فارم'' کی شکل میں کر دیا اور اس بات کی یقین دہانی بھی کرا دی کہ اس چھلنی کے استعمال کے باوجود انتخابات میں کوئی دیر ہونے نہیں دی جائے گی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جمہوریت کے 35 سالہ دور میں کیا ہوتا رہا؟ سیاست دانوں نے کبھی یہ ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ الیکشن کے موقعے پر ہر جماعت عوام کے سامنے ملک اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا ایک منشور پیش کرتی ہے اور اگر وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو جاتی ہے تو اپنے منشور کے مطابق قوم و ملک کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے، اگر وہ اپنے منشور پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو عوام دوبارہ سے منتخب کرتے ہیں، اگر وہ اپنے منشور پر عملدرآمد میں ناکام ہوتی ہے تو عوام کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی اور پارٹی کو اپنا مینڈیٹ دیں۔
مینڈیٹ ہر حال میں عوام اور ملک کے مسائل منشور کے مطابق حل کرنے سے مشروط ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں قدم قدم پر انتخابی منشور پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ امیدواروں کی اہلیت ان کی ایمانداری کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، عوام کی ان کڑی نظروں کی وجہ سے نہ بددیانت کرپٹ لوگوں کو آگے آنے کا موقع ملتا ہے نہ اقتدار میں آنے کے بعد منشور سے انحراف کی ہمت ہوتی ہے، اسی لیے ان ملکوں میں انتخابی جمہوریت کی گاڑی چلتی رہتی ہے، اس کے ڈی ریل ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
جب اس پس منظر میں ہم اپنی سیاست اور سیاستدانوں پر نظر ڈالتے ہیں تو منشور عوام اور ملک کے مسائل یا تو کاغذوں اور تقریروں میں نظر آتے ہیں یا پھر اگلے الیکشن سے پہلے۔ اس کے برخلاف ہوتا یہی آ رہا ہے کہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی لوٹ مار اور حصے بخروں کی منصوبہ بندی ہو جاتی ہے اور انتخابات میں حصہ لینے والوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ انتخابی مہم انتخابی ٹکٹ کی خریداری پر جو سرمایہ کاری کر رہے ہیں اس سے سو گنا زیادہ سرمایہ وہ اپنی ''پانچ سالہ خدمات'' کے دوران حاصل کر لیں گے۔ ان کے رہنما ان کے سرمائے کی واپسی کے لیے ہر طرح مدد کرتے ہیں۔
آج اگرچہ ہم جیسے بد دماغ لوگوں، لکھاریوں کے دباؤ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کی طرف سے سیاستدانوں کے ''کارناموں کی تشہیر'' کی وجہ سے ہر جماعت اپنا منشور تیار اور پیش کر رہی ہے لیکن کوئی جماعت نہ اپنے منشور کو قومی مسائل کے مطابق بنا رہی ہے نہ بنیادی قومی مسائل مثلاً زرعی اصلاحات، احتساب، انتخابی اصلاحات کو اپنے منشور میں شامل کر رہی ہے۔ اس کے برخلاف اپنا سارا وقت ایک دوسرے پر اربوں روپوں کی کرپشن کے الزامات یا دوسری جماعتوں کے ''قابل فروخت اکابرین'' کی خریداری پر صرف کر رہی ہے۔
ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر نئی حکومت کی ذمے داری کا فیصلہ ہو چکا ہے اندرونی اور بیرونی طاقتوں کی خفیہ حمایت کا اندازہ کر کے فصلی بٹیرے اپنی اڑان کی سمت طے کرتے ہیں اور اس سمت اور اڑان کا دنیا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہی ہے اور بے چارے غریب ووٹر حیرت سے فصلی بٹیروں کی اس موسمی موقعہ پرستانہ اور بددیانتانہ اڑانوں اور گھونسلہ بدلیوں کو دیکھ رہے ہیں، اور سوچ رہے ہیں کہ تاریخ کس طرح اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، اگر انتخابات کا مقصد صرف اپنی جمہوری اور سیاسی بدنما تاریخ کو دہرانا ہی ہے تو عوام پھر یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ''تم اور تمہارے انتخابات جائیں جہنم میں'' اس صورت حال اور 35 سالہ فضول مشق سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ انتخابات کو آئین کی شق نمبر 63-62 کی چھلنی سے چھانا جائے اور امین اور صادق لوگوں کو آگے آنے کے مواقعے فراہم کیے جائیں۔ اگر الیکشن کمیشن کے مجوزہ الیکشن فارم کو پر کرنا لازمی ہو جائے تو کوئی بڑا انقلاب تو نہیں آ جائے گا۔
البتہ بڑے بڑے سیاسی مگرمچھ جو شیروانیاں پہننے کے لیے بے تاب ہیں وہ اس 63-62 کی چھلنی میں اٹک جائیں گے، ان کے اٹکنے سے صادق اور امین امیدواروں کے آگے آنے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔ یہ نظام کی تبدیلی نہیں نظام کی تبدیلی کی طرف ایک مثبت قدم ہو گا۔ اس تصور نے لٹیروں کی نیندیں اڑا دی ہیں اور ہر بدنام پارٹی کے گھر میں ماتم برپا ہے۔ ہم نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ہمارے سیاست کار اور ان کے سر پرست ہو سکتا ہے اس پل صراط سے بچنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیں۔ اگر ایسا ہوا تو کینیڈا سے آئے ہوئے ایجنٹ اور چند ہمنوا اس سازش کے خلاف لاکھوں کے لشکر لے کر میدان میں آ سکتے ہیں۔ پھر دودھ کا دودھ، پانی کا پانی سامنے آ جائے گا۔ اب لٹیروں کے لیے صرف دو ہی راستے رہ گئے ہیں یا تو وہ 63-62 کی چھلنی سے گزریں یا عوام کے سمندر کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
ہم نے اوپر جن خدشات کا ذکر کیا تھا کہ ہماری سیاسی ایلیٹ ان شقوں سے بچنے کی کوئی نہ کوئی صورت نکال لے گی۔ کینیڈا کے شہری نے ان خدشات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''کاغذات نامزدگی میں چور دروازہ کھول دیا گیا ہے، قرض خوروں اور ٹیکس چوروں کو محفوظ راستہ دے دیا گیا ہے''۔ اب دودھ کا دودھ، پانی کا پانی کیسے ہو گا؟