
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کے نتیجے میں خالی ہونے والی نشست حلقہ این اے 154 لودھراں کے ضمنی انتخاب میں تمام 338 پولنگ اسٹیشن کے نتائج آگئے ہیں جس میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کو شکست دے دی۔
مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اقبال شاہ نے ایک لاکھ 13ہزار 452 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار علی خان ترین 85 ہزار 933 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ، یوں اقبال شاہ نے پی ٹی آئی کے امیدوار کو 27 ہزار 519 ووٹوں سے شکست دی۔ تحریک لبیک کے امیدوار نے 10 ہزار 275 ووٹ حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی جب کہ پیپلزپارٹی کے نمائندے نے صرف 3 ہزار 189 ووٹ حاصل کیے۔
Final Result: NA-154
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) February 12, 2018
Dated: 12-02-18
PS : 338/338
PMLN: 113452
PTI: 85933
TLYRA: 10275
PPP: 3189
PMLN Lead: 27519
Allah be praised !
🐅🐅🐅
مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مکمل نتائج شیئر کیے اور ساتھ ہی ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کو شکست دینے پر خوشی کا بھی اظہار کیا۔
شکریہ لودھراں ۔۔۔۔ خوش کر دیا !
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) February 12, 2018
مریم نواز نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ نوازشریف کے خلاف سازشوں کو اللہ نے نوازشریف کی طاقت بنا دیا، اب بھی سمجھ جاؤ، فیصلے اللہ کے چلتے ہیں اور اسی نظام پر دنیا قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے واضح کردیا کہ ووٹ کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیا جائے گا اور نوازشریف کی قیادت میں ووٹ کی حرمت کا کارواں منزل پر پہنچ کر ہی دم لے گا۔
Thank you Lodhran for your trust in the leadership of PMLN... It's your victory... And we will continue to serve you... Congratulations to all the PMLN workers and our victorious candidate Iqbal Shah sb.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) February 12, 2018
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو کامیاب کروانے پر لودھراں کےعوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر اعتماد کرنے کا شکریہ، یہ آپ کی کامیابی ہے اور ہم آپ کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے لیگی امیدوار اقبال شاہ کو بھی مبارک باد دی۔
For all Insafians who are feeling dejected after NA154 result, every setback is an opportunity to analyse one's mistakes, correct them & come back stronger. Successful people, institutions & nations learn from their failures.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) February 12, 2018
دوسری جانب چیرمین پی ٹی آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ این اے 154 کے نتائج سے افسردہ ہونے والے کارکنان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ کو پہنچنے والا ہر دھچکا نقائص کے تجزیے اور ان کی درستگی کا موقع فراہم کرتا ہے، اور آپ کو پہنچنے والا صدمہ ایک نئے عزم، ولولے اور مزید قوت سے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب قومیں، لوگ اور ادارے اپنی غلطیوں کو کامرانی کا زینہ بناتے ہیں۔
Those who get demoralised can never achieve their potential. In my decades of political struggle for Insaf I have never been demoralised but have come back stronger after confronting adversities. The 2018 election is ours inshaAllah. https://t.co/bwtQA90IWQ
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) February 12, 2018
عمران خان کا کہنا تھا کہ دہائیوں پر محیط اپنی جدوجہد کے دوران میں نے کبھی دل شکستگی کو پاس نہیں پھٹکنے دیا، ہر صدمے اور شکست کے بعد میں نے مزید قوت کیساتھ میدان میں قدم جمائے اور 2018 کا انتخاب انشاءاللہ ہمارا ہے۔
اس سے قبل ضمنی انتخاب کے لیے صبح 8 بجے پولنگ شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفہ کے جاری رہی۔ حلقے میں تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی سمیت 10 امیدوار مدمقابل تھے،علی ترین تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کے بیٹے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ این اے 154 میں 338 پولنگ اسٹیشنز میں فوج کے جوان تعینات کیے گئے جنہیں مجسٹریٹ کے اختیارات بھی دیے گئے ۔ ڈپٹی کمشنر لودھراں نے بتایا کہ حلقہ کے تمام پولنگ اسٹیشنز پر 4500 فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق لودھراں کے حلقہ این اے 154 میں کل ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 31 ہزار 2 ہے جن میں مرد ووٹرز 2 لاکھ 36 ہزار 496 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 94 ہزار 506 ہے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔