
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آج پریس کانفرنس کے ذریعے شہباز شریف اور احتجاج کرنے والے بیوروکریٹس کے مابین کرپشن کا گٹھ جوڑ بے نقاب کروں گا اور بتاؤں گا کہ شہباز شریف کے فرنٹ مین کی گرفتاری کے بعد کیسے انہیں ڈر ہے کہ احد چیمہ خود کو بچانے کے لئے کہیں کرپشن میں سرکاری افسران کے کردار کا بھانڈا نہ پھوڑ ڈالے۔
Tomorrow I will be doing a press conference exposing the nexus of corruption between Shahbaz Sharif & the protesting bureaucrats who are petrified of what Ahad Cheema, SS's front man, may expose about the mega scams in Punjab & other bureaucrats complicity also, to save himself.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) February 23, 2018
اس سے قبل عمران خان نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کی گرفتاری کے خلاف پنجاب کی بیوروکریسی کے احتجاج پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے فرنٹ مین احد چیمہ کی گرفتاری پر بیوروکریسی کا احتجاج شرمناک ہے۔ گاڈ فادر شہباز شریف کی سرکردگی میں کرپٹ ٹولہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔ اگر اس ٹولے کے ہاتھ صاف ہیں تو احتساب سے کیوں گھبراتے ہیں۔
Utterly shameful how bureaucracy belonging to PAS has chosen to protest over accountability & arrest of Cheema, clearly SS's front man. This union of the corrupt under ldrship of Godfather SS believes they are above the law. If they are innocent why shd they fear accountability?
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) February 23, 2018
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں ایک سیاسی رہنما کی حیثیت سے قانون کی حکمرانی اور احتساب پر مکمل ایمان رکھتے ہوئے سپریم کورٹ گیا، جہاں میں نے اپنی صفائی میں 50 سے زائد دستاویز پیش کیں۔ افسروں کے اس ٹولے نے اگر کرپشن یا لوٹ مار میں معاونت نہیں کی تو پھر انہیں کس بات کا خوف ہے۔
As a pol ldr I appeared before the SC and produced over fifty documents to prove my innocence since I believe in Rule of Law and accountability. What are the PAS bureaucrats scared of if they have not indulged in or abetted any corruption? https://t.co/uY6F6em1M4
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) February 23, 2018
دوسری جانب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران آصف علی زرداری نے کہا کہ 10 بار جسٹس قیوم نے مجھے سزادی لیکن پیپلز پارٹی نےعدالتی فیصلےکو تسلیم کیا، ہم نے عدالت جاکر انصاف مانگا لیکن کوئی غیرجمہوری رویہ نہیں اپنایا، کبھی اداروں کو لڑانے کی کوشش نہیں کی، لیکن نواز شریف کی کوشش ہے کہ اداروں کو کمزور کیا جائے، ادارے ختم ہوجائیں تو ملک کمزور ہوجاتا ہے، پنجاب کی بیوروکریسی میں 14 سے 15 ایم این ایز کے بھائی بھتیجے ہیں، ان کی مدد سے پنجاب کی بیوروکریسی میں بغاوت کروائی جارہی ہے، ان کو ڈر ہے کہ شہباز شریف بھی چلے گئے تو ان کا کیا بنے گا۔
آصف زرداری کا کہنا تھا کہ قوم کو مایوس نہیں کرنا چاہتا، ہم ساڑھے 4 سال سے کہہ رہے تھے کہ وزیرِخارجہ لگایا جائے لیکن ہمارے مشورے پر عمل نہ کیا گیا، حکومت 4 سالوں میں بری طرح ناکام ہوئی جس کا فائدہ پڑوسی ملک کو ہوا، ہمارا پڑوسی بہت شاطر ہے، وہ عالمی قوتوں کے ساتھ مل کر ہم پر پابندیاں لگوا رہا ہے، مودی مسلمان ملکوں میں مندر بنوارہا ہے اور پاکستان کے خلاف ہر فورم پر اپنا اثر رسوخ استعمال کررہا ہے جب کہ ہماری نالائقی کا فائدہ بھارت اٹھارہا ہے اور آپ جھانسے میں ہیں کہ بھارت آپ کا دوست بن جائے گا۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے دورمیں بھی مشکل وقت کا سامنا کیا لیکن ہم نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حالات کا سامنا کیا، مخالفین کبھی نہیں چاہتے ہیں کہ پاکستان قائم رہے، عالمی سطح پر ہمارے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، ہمیں اور آپ سب ہی کو چلے جانا ہے، عاجزی کے ساتھ کہتا ہوں اس ملک کے ساتھ رحم کرو، ہمیں اسی مٹی میں مرنا ہے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔