
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمن وزارت داخلہ نے مسلم مخالف حملوں کا ڈیٹا جمع کرنا شروع کردیا جس سے اس بات انکشاف ہوا ہے کہ جرمنی میں مسلمانوں اور مسلم اداروں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ سال مسلمانوں اور مسلم اداروں پر 950 حملے ہوئے جن میں 33 افراد زخمی ہوئے، مساجد پر بھی 60 حملے کیے گئے جن میں سے بعض واقعات میں خنزیر کا خون اور گوشت پھینکا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی میں لاؤڈ اسپیکر پراذان دینے پر پابندی
جرمنی کی مسلم سینٹرل کونسل کے سربراہ ایمان میزیک نے بتایا کہ جرمنی میں مسلمانوں اور مسلم اداروں پر زیادہ تر حملوں میں دائیں بازو کے انتہا پسند ملوث پائے گئے، جبکہ پچھلے چند سال میں ہونے والے حملوں کا ڈیٹا موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم مخالف جرمن سیاست دان نے اسلام قبول کرلیا
ایمان میزیک نے بتایا کہ اس سے پہلے مسلمان مخالف حملوں کی نگرانی بھی نہیں کی جاتی تھی، حملوں کے متاثرین بھی پولیس کو رپورٹ درج نہیں کراتے تھے، تاہم اب جرمن حکومت نے ملک میں مسلمانوں اور مسلم اداروں پر حملوں کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کردیا ہے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔