
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کے رہنما بلال اظہر کیانی کی دہری شہریت کیس کی سماعت کیس کی۔ سپریم کورٹ نے این اے 66 جہلم سے امیدوار بلال اظہر کیانی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔ بلال کیانی کے وکیل نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں واضح کر دیا تھا کہ وہ دہری شہریت ترک کردیں گے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صرف شہریت چھوڑنے کا کہہ دینا کافی نہیں ہوتا، دہری شہریت چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ سے اہلیت شروع ہوگی، آپ اپنے ووٹر کو کہتے ہیں کہ میں پاکستانی ہوں۔چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے پہلے بلال کیانی نے دہری شہریت چھوڑ دی تھی یا نہیں۔ وکیل نے کہا کہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے پہلے 7 جون کو دوہری شہریت چھوڑ دی تھی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کہا جاتا ہے سپریم کورٹ متنازع ہوتی جارہی ہے، سپریم کورٹ اگر متنازع ہوتی جارہی ہے پھر یہاں آتے ہی کیوں ہیں؟۔ عدالت نے بلال اظہر کیانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں این اے 66 جہلم سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔