
مانچسٹر کی ہل ہونیورسٹی میں11 سے18اگست کے دوران انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے عنوان سے ایک ورکشاپ ہونے جا رہی ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس شوکت صدیقی کو اس ورکشاپ میں شرکت کیلیے نامزدکیا تھا تاہم جسٹس شوکت عزیز نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھ کر برطانیہ میں ہونے والی اس ورکشاپ میں شرکت سے معذرت کر لی۔
جسٹس شوکت صدیقی نے خط میں لکھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے شوکاز اور خطرات کے باعث وہ برطانیہ نہیں جا سکتے، ان کا کہنا تھا کہ مجھے اور میرے خاندان کے افراد کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ لہٰذا میں انھیں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو مخاطب کر کے لکھا کہ میری نامزدگی واپس لے کر ورکشاپ کے آرگنائزرزکو آگاہ کر دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا میں جنم لینے والی اس غلط فہمی کو دور کیا جائے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی برطانیہ کا ذاتی دورہ کر رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ہل یونیورسٹی میں انسانی حقوق کی عملداری پر ورکشاپ منعقدکی جا رہی ہے جس میں شرکت کیلیے چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد انور خان کاسی نے ان کو نامزد کیا تھا۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔