
انتخابی دُھند چھٹنے کے بعد جو تصویر بنتی نظر آ رہی ہے اس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سب سے زیادہ نمائندگی حاصل کرنے والی سیاسی جماعت بن گئی ہے اور بظاہر اس بات میں بھی شک نہیں نظر آ رہا کہ عمران خان ملک کے اگلے وزیراعظم ہوں گے۔ عمران خان نے انتخابات جیتنے کے بعد اپنی فاتحانہ تقریر میں نہایت مہارت سے ان مسائل کا ذکر کیا جو ہمارے حقیقی مسائل ہیں۔ اس سے پہلے والی تقریروں اور فاتحانہ تقریر والے عمران خان میں جو فرق تھا وہ سبھی نے دیکھا اور محسوس بھی کیا۔ آپ کے ارادے مستحکم لگ رہے ہیں مگر ہمارے ساتھ یہ وعدے پہلے بھی بہت بار کیے جا چکے ہیں جو آپ نے کئے ہیں۔ ہم بہرحال خوش گُمانی کے ساتھ انتظار کریں گے کہ جو خواب آپ نے عوام کو دکھائے ہیں ان کی تعبیر بھی ممکن بنائی جا سکے۔
اب چونکہ خوش گمانی کا دور دورہ ہے تو ایک عام پاکستانی عمران خان کے تبدیلی والے نعرے سے متاثر ہوکر ان سے اور بھی بہت سی توقعات باندھ بیٹھا ہے اور مسائل کی ایک فہرست وہ بھی تیار کرکے بیٹھا ہے۔ یہ بھی اس ملک کے عین حقیقی مسائل ہیں جو اگر حل ہو جائیں تو ذہنوں پہ چھائی دُھند بھی چھٹ جائے گی اور کئی قابلِ قدر لوگوں کو معاشرے میں ان کا جائز مقام بھی مل جائے گا۔ میں چاہوں گا کہ ان پہلوؤں کی بھی نشاندہی کرتا چلوں جو نظرانداز ہوتے رہتے ہیں۔
سب سے پہلی تجویز یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ملک کی اصل تاریخ مرتب کی جائے۔ ماہرین یہ فیصلہ کریں کہ ضیاء الحق کے زمانے میں لکھی گئی پاکستانی تاریخ زیادہ معتبر ہے، ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے والی یا پھر ایوب خان کے زمانے والی۔ قائداعظم کی 11 اگست والی تقریر کی کیا تاریخی حیثیت ہے اور قرارداد مقاصد کے پیچھے کون لوگ تھے۔ اگر کچھ فیصلہ ہو جائے تو اس نئی تاریخ کو پھر نصاب کا حصہ بنایا جائے اور اس کی تشہیر کی جائے۔
قومی تشخّص کی نئی تعریف لکھنے کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ ہمیں شروع سے پڑھایا جاتا رہا ہے کہ ہندو تنگ نظر تھے، مکار تھے، عیار تھے اور پتہ نہیں کیا کیا... جس کی وجہ سے دونوں قومیں ایک ساتھ نہیں رہ سکتی تھیں۔ ہندوؤں کو تنگ نظر ہی پڑھایا جاتا رہا تو ملک میں مقیم ہندوؤں اور دوسری اقلیتی برادریوں کا اعتماد حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔ آپ نے کہا کہ ہمیں اب متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ اتحاد کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ جنہوں نے ایک چھتری تلے جمع ہونا ہے وہ ایک دوسرے کے بارے میں بدگمان نہ ہوں۔ لگے ہاتھوں یہ بدگمانی بھی دور کرتے جائیں۔
اسلامی تعلیمات کی تشریح کےلیے الگ سے ایک بورڈ قائم کر دیں جس کے ممبران کی اہلیت اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین سے قدرے بہتر ہو۔ جو جدید عصری تقاضوں کو بھی سمجھ سکیں اور ایک مخلوط معاشرے کی اہمیت اور ضرورت کا بھی خیال رکھ سکیں۔ بلاوجہ کٹنے والی گردنیں ذرا محفوظ ہو جائیں گی اور شاید اسی طرح ملک میں بسنے والی اقلیتوں کو بھی ان کا جائز حق دیا جا سکے گا۔
ہم پسماندہ ہونے کے باوجود یہ شعور رکھتے ہیں کہ ہمیں اس ملک میں مذہبی جماعتوں کی سیاست ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ انتخابات میں عوام نے مولویوں کو ووٹ نہ دے کر ان کے جہادی کلچر اور طاقت کے زور پر غلبہ اسلام کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ آپ بھی اب نئے پاکستان میں طالبان سے متعلق واضح موقف اختیار کریں اور پورے ملک کو اعتماد میں لیں۔ کرائے کے جنگجو بن کے پرائی لڑائی لڑنے سے ہمیں اب باز آ جانا چاہیے۔
اس کے بعد تعلیمی نظام کی مرمت کی جائے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے نصاب کو دوبارہ سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کو دورِ حاضر کے حالات اور تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت ہے۔ درسی کتابیں دوبارہ سے لکھوائی جائیں تاکہ اسکولوں میں جو کچھ پڑھایا جائے وہ پڑھنے والوں کو اپنے اردگرد سے مطابق ہی لگے۔
اس کے علاوہ مقامی زبانوں کی قسمت کا بھی فیصلہ کر دیجیے۔ پرائمری تعلیم اگر مادری زبان میں دی جانے لگے تو حاصلاتِ تعلیم پر کس قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر تو بچے زیادہ اچھی طرح سیکھ سکتے ہیں تو بنیادی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے پر کیا رکاوٹ حائل ہے۔
اس نئے پاکستان میں اساتذہ (خاص طور پر پرائمری اسکولوں کے اساتذہ) کا حقیقی مقام متعین کیا جائے۔ صورت حال یہ ہے کہ پولیو ڈیوٹی سے لے کر مردم شماری تک کا وہ فریضہ جس کےلیے الگ سے ٹیمیں موجود ہونی چاہئیں، یہی حضرات سرانجام دیتے ہیں۔ انہیں ڈاکیا نہ بنائیں، کسی طرح سے استاد ہی رہنے دیں تو تعلیمی معیار پر مثبت نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
پھر کچھ خبر ہائر ایجوکیشن کی بھی لے لیں کہ اس شعبے میں ریسرچ کا کیا معیار ہے۔ ہر سال کتنے تحقیقی مقالے پیش ہوکر ردی کے ڈھیر میں بدل جاتے ہیں اور کیوں؟ مائیکروسافٹ اور گوگل والے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت بھارتی یونیورسٹیز کے دورے کرتے ہیں، انہیں پاکستان کی راہ بھی دکھا دیں۔
محکمہ آثار قدیمہ اگر کہیں ہے تو اسے نظر بھی آنا چاہیے اور اسے ملک میں موجود تاریخ کی باقیات کی حفاظت کا ذمہ بھی لینا چاہیے۔ ہندو اور جین مندروں، گرجوں، خانقاہوں، بُدھا کے اسٹوپوں (بچے کھچے) کی مرمت اور حفاظت ایک سنجیدہ کام ہے جو توجہ کا منتظر ہے۔ بسم اللہ کیجیے۔
ثقافت کی تعریف نئے سرے سے کریں اور بتائیں کہ ہماری اصل یعنی برصغیر کی ثقافت کیا ہے۔ یہ بھی فیصلہ ہو ہی جائے کہ ہمیں عربی ثقافت کو کس درجے میں رکھنا ہے اور عجمی کو کس درجے میں۔ معاشرے میں فنکاروں کا مقام متعین کیا جائے اور اگر مقامی ثقافت کو بنانے اور اس کے اظہار میں فنکاروں کا ہمیشہ قابلِ قدر کردار رہا ہے تو اس کردار اور اس مقام کو قبول بھی کر لیں۔ مقامی لوک فنکاروں کو پھر سے تلاش کیا جائے کیونکہ کئی طرح کی رکاوٹوں، بندشوں اور تنبیہات کے بعد وہ گمنامی میں چلے گئے ہیں اور ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ جو کچھ نسلوں سے کرتے آ رہے ہیں وہ قابلِ نفرت یا تضحیک آمیز کام ہرگز نہیں ہے۔ ان کےلیے دوبارہ سے اسٹیج ترتیب دیں اور انہیں ان کا کھویا ہوا مقام پھر سے لوٹا دیں۔ ثقافت کے گلستاں پر جمی گرد ہٹے گی تو یہ کینوس ایک بار پھر رنگ برنگے پھولوں سے بھر جائے گا جس سے فضا کی گھٹن قدرے کم رہ جائے گی۔
لکھنے والے، گانے والے، پرفارم کرنے والے اور فنون لطیفہ کی دیگر شاخوں سے جڑے ایسے قیمتی انسان جو بزرگی کو پہنچ کر بے آسرا ہو جاتے ہیں اور بالآخر کسمپرسی کی حالت میں بُجھ جاتے ہیں، ان کی مالی سرپرستی کا بھی کوئی انتظام کیا جائے۔ پورے ملک میں سانس لینے والے بزرگ فنکاروں کی تفصیل حاصل کرنا ایک کتنا مشکل کام ہے۔
انٹرٹینمنٹ ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور ہر معاشرے میں اس کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ملکی فلمی صنعت کا احیاء اب سرکاری سرپرستی میں ہو جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ٹیلی ویژن ڈراموں کا ازسرنو جائزہ لیا جانا نہایت ضروری ہے۔ ٹی وی چینلز کےلیے کوئی قابلِ عمل ضابطہ اخلاق ترتیب دیا جائے جس میں ان کےلیے یہ رہنمائی بھی شامل ہو کہ وہ حقیقی معاشرتی مسائل کی عکاسی کریں، نہ کہ فرضی اور بے بنیاد موضوعات کی مدد سے نشریاتی آلودگی پھیلاتے رہیں۔
مقامی تھیٹر کی روایت کا احیاء ہو اور دیہاتی قصباتی لوگوں کو بھی معیاری تفریح تک رسائی دی جائے۔ میلوں ٹھیلوں، بسنتوں، بیساکھیوں اور دیگر تہواروں کو دوبارہ زندگی دی جائے۔ فیض فیسٹیول، کراچی و لاہور لٹریری فیسٹیول اور کتاب میلے وغیرہ جیسے ایونٹس کو چھوٹے چھوٹے شہروں تک رسائی دینے کا انتظام کیا جائے تاکہ معاشرہ صحت مند زندگی کی طرف رجوع کر سکے۔
کھلیوں کے مقابلے سکولوں میں تو ہونے ہی چاہئیں اسے دیہاتی سطح تک پھیلایا جائے تاکہ نئی نسل کے جوان صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب ہو سکیں اور کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد ملکی سطح پر اپنے جوہر دکھانے کے قابل ہو سکے۔
اسکولوں میں بزم ادب کے شعبے کو بحال کیا جائے اور ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کےلیے پڑھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تحریر و تقریر کا فن ہر پڑھنے والے کے پاس ہو۔
کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر ضیاء الحق نے اسٹوڈنٹس یونینز پہ جو پابندی لگائی تھی اسے ختم کیا جائے تاکہ ایک صحت مند ماحول قائم کیا جا سکے اور مستقبل کے عوامی نمائندے پڑھے لکھے اور مناسب تربیت کے حامل ہو سکیں۔
آپ ہی کے دلائے ہوئے حوصلے کی وجہ سے میں یہ گزارشات کر رہا ہوں اور میں قطعاً یہ نہیں کہوں گا کہ راتوں رات جادو کی چھڑی گھمائیں اور یہ سب معاملات درست کر دیں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ بہرحال عمران خان ہیں، طلسمی ٹوپی اور زنبیل والے عمرو عیار نہیں ہیں۔ اس لیے آرام سے وقت لیں اور پانچ سال میں ہی سہی مگر ان پہلوئوں پہ کچھ توجہ ضرور دیں۔
آپ کے وژن کے مطابق نئے پاکستان میں لوگ ہنرمند تو ہوں گے ہی، انہیں ذہنی طور پہ بھی آزاد کرنے کی کوئی صورت نکالیں تاکہ نئے پاکستان میں مولوی کو بھی اپنے مقام کا پتہ چل جائے اور فنکار کو بھی۔
تاریخِ پاکستان پر آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا!
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔