
ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر جاوید اختر اور ڈپٹی پراسیکیوٹر عارف سیتائی نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سندھ کو مکتوب ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تھانہ کھوکھراپار نمبر چار مین روڈ پر 3500مربع گزسرکاری اراضی پر پولیس افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر ذوالفقار علی، اہلکار محسن اور عبدالستار نامی شخص قبضہ کررہے تھے تاہم ڈی ایس پی فہیم فاروقی نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ مقدمہ میں نامزد مزکورہ پولیس افسر و اہلکاروں نے20 ہزار روپے میں قبضہ کیا اور تعمیرات شروع کردی اس سلسلے میں پولیس نے اپنی کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا۔
دوران تفتیش عدالت نے اراضی کیلیے محکمہ ریونیو اور مختار کارمراد میمن گوٹھ ، مختار کار ماڈل کالونی ، مختار کار ائرپورٹ اور کمیشنر ملیر کو مکتوب ارسال کیے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ قیمتی اراضی کس کی ہے اور تمام ریکارڈ طلب کیا لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا جبکہ کمیشنر ملیر کو بھی مکتوب ارسال کیے لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ رینویو اور متعلقہ اداروے سرکاری اراضی کو قبضہ گروپ سے بچانے کیلیے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ خود اس معاملے میں ملوث نظر آتے ہیں اور قبضہ مافیا کی مکمل معاونت کررہی ہیں مکتوب میں مزکورہ محکموں کے افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے، ملزمان کے خلاف تھانہ کھوکھراپار میں مقدمہ درج ہے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔