
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے پروفیسر ڈین پورٹنوئے اور ان کے ساتھیوں نے اس تحقیق کو ممتاز سائنسی جریدے 'نیچر' میں شائع کرایا ہے۔ ان کے مطابق ہمارے نظامِ ہاضمہ میں لاتعداد اقسام کے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو مفید بھی ہوسکتے ہیں اور مضر بھی۔ اس فہرست میں ایسے دونوں بیکٹیریا شامل ہیں جو مختلف طریقوں سے بجلی کی ہلکی مقدار خارج کرتے ہیں۔
ایک اہم دریافت
پروفیسر ڈین کے مطابق اس فہرست میں لسٹیریا اور کلاسٹریڈیئم جیسے بیکٹیریا شامل ہیں جو رگوں کی بیماری گنگرین کی وجہ بنتے ہیں۔ پھر ان میں پروبایوٹکس سے وابستہ مفید بیکٹیریا کی بھی ایک طویل فہرست شامل ہے۔ اس دریافت سے ان کی کارکردگی ، امراض یا کسی فائدے کے بارے میں جاننے میں بہت مدد ملے گی۔
دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ اس دریافت سے بدن کے اندر لگے پیوند (گرافٹ) کو بجلی کی فراہمی یا بیکٹیریا پر مبنی بیٹری بنانے میں بھی مدد مل سکے گی جس سے چھوٹے سینسر اور آلات کو چلانا ممکن ہوسکے گا۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔