
تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے ابتدائی روز محمد حفیظ اور امام الحق نے ٹیم کو 205 رنز کی بنیاد فراہم کی جوکہ پاکستان کا ٹیسٹ کرکٹ میں پانچواں ڈبل سنچری اسٹینڈ ہے جبکہ 2016 کے بعد پہلا ہے جب اظہر علی اور سمیع اسلم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اسی وینیو پر 215 رنز جوڑے تھے۔ نومبر 2010 کے بعد سے پاکستانی اوپنرز نے ٹیم کو 13 مرتبہ سنچری بنیاد فراہم کی ہے جوکہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ آسٹریلیا کو دسویں مرتبہ حریف اوپنرز کی جانب سے ڈبل سنچری اسٹینڈ برداشت کرنا پڑا ہے، 1990 کے بعد یہ تیسرا موقع ہے، اس سے پہلے موہالی میں 2013 میں مرلی وجے اور شیکھر دھون نے کینگروز کے خلاف ٹیم کو 289 رنز کی بنیاد فراہم کی تھی۔
اننگز کے پہلے 60 اوورز میں آسٹریلیا کو ایک بھی وکٹ نہیں ملی، یہ 2000 کے بعد پہلا موقع ہے جب کینگروز کو اننگز کی پہلی وکٹ کیلیے اتنا طویل انتظار کرنا پڑا ہو۔ محمد حفیظ نے متحدہ عرب امارات میں چوتھی سنچری اسکور کی، یہ ان کی آسٹریلیا کے خلاف پہلی جبکہ یو اے ای میں مسلسل دوسری تھری فیگر اننگز ہے، اس سے قبل انھوں نے انگلینڈ کے خلاف شارجہ میں 2015 میں 151 رنز بنائے تھے، حفیظ اب بطور اوپنر 3465 رنز بناچکے جس میں 10 سنچریاں شامل ہیں، بطور اوپنر ان سے زیادہ صرف سعید انور نے پاکستان کے لیے سنچریاں اسکورکی ہیں، یو اے ای میں حفیظ کی اوسط 55.27 ہے۔ 205 کے اسٹینڈ کے دوران صرف 10 بالز بیٹ ہوئیں جس سے اندازہ ہوتا ہے یہ کنڈیشنزبیٹسمینوں کیلیے کس حد تک سود مند ہیں۔
آسٹریلیا کی جانب سے بیگی گرین حاصل کرنے والے ایرون فنچ ٹیسٹ ڈیبیو سے قبل دوسرے زیادہ انٹرنیشنل میچز کھیلنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں، انھوں نے پہلا ٹیسٹ کھیلنے سے قبل 135 انٹرنیشنل میچز کھیلے، اس فہرست میں ان سے آگے روہت شرما ہیں جنھوں نے ٹیسٹ ڈیبیو سے قبل 144 ایک روزہ میچزکھیلے تھے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔