
عمران خان کاکہناہے کہ لوگ پہلے انہیں طالبان خان کہتے تھے لیکن آج نوازشریف طالبان خان بن چکے، ڈرون حملے طالبان سے مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔اخبار لکھتاہے کہ بہارکے وزیر اعلیٰ نتیش کمار یہ سن کر یقیناًخوش ہوں گے کہ عمران خان انہی کاطرز حکمرانی چاہتے ہیں ، پاکستانی سیاست میں ایک نئی قوت کے طورپرسامنے آنے اور دہشت گردی کا شکارصوبے خیبر پختونخوامیں نتیش جیسی حکومت تشکیل دیناچاہتے ہیں جہاں بیوروکریسی سیاست زدہ نہ ہو،وہ بھارتی صوبے بہار کی طرزپربیورکریسی اور پولیس کو سیاست سے پاک کرناچاہتے ہیں۔

بھارتی اخبار کو اپنے پہلے انٹرویومیں عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان کی طرف سے خطرہ بہت بڑاہے لیکن ہم نے لوگوں پرتوجہ دینے کیلیے منصوبہ بندی کی ہے اورخیبر پختونخواحکومت سے کہہ دیا کہ وہ شفاف طرزحکمرانی کریں۔اخبار کے مطابق عمران خان کہتے ہیں کہ وہ ایک موثرحزب اختلاف کا کردارادا کریں گے لیکن بھارت اورطالبان کے ساتھ امن بات چیت کیلیے نواز شریف سے تعاون کریں گے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔