
گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے ترکی کے خلاف انتہائی سخت بیان جاری کرتے ہوئے ٹوئٹ کی تھی کہ شام سے امریکی فوج کا انخلا شروع ہو گیا ہے اور اگر ترکی نے شام میں کردوں کو نشانہ بنایا تو امریکا ترکی کو اقتصادی طور پر تباہ کر دے گا۔ تاہم آج حیران کن طور پر انہوں نے پینترا بدلتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
Starting the long overdue pullout from Syria while hitting the little remaining ISIS territorial caliphate hard, and from many directions. Will attack again from existing nearby base if it reforms. Will devastate Turkey economically if they hit Kurds. Create 20 mile safe zone....
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) January 13, 2019
صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ میری ترک ہم منصب طیب اردگان سے فون پر بات چیت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی ترقی کے فروغ کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ترک صدر سے شام میں امریکی فوجی انخلا پر بھی گفتگو کی اور انہیں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران داعش کے خلاف جنگ میں اپنی تازہ ترین کامیابیوں سے آگاہ کیا جب کہ بیس میل طویل ایک سیف زون (محفوظ علاقہ) بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ شام میں ترکی کے سکیورٹی خدشات سے آگاہ ہیں اور اس کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
Spoke w/ President Erdogan of Turkey to advise where we stand on all matters including our last two weeks of success in fighting the remnants of ISIS, and 20 mile safe zone. Also spoke about economic development between the U.S. & Turkey - great potential to substantially expand!
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) January 14, 2019
واضح رہے کہ ترک وزیر خارجہ نے معیشت تباہ کرنے کی ٹرمپ کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی دھمکی سے ڈرنے یا خوف زدہ ہونے والے نہیں۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔