سیاسی کشیدگی میں اضافہ
ممنون حسین ملک میں ایسی بھاری بھرکم شخصیت ہرگز نہیں ہیں
GUJRANWALA:
صدارتی انتخاب نے سیاسی جماعتوں میں کشیدگی کا آغاز کر دیا ہے اور مسلم لیگ ن کے خلاف پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اب ایک دوسرے کے خلاف باہمی مخالفت ترک کر کے قریب آ گئی ہیں اور ساتھ ہی دونوں جماعتوں کے چھوٹے حلیف اے این پی، مسلم لیگ ق، جماعت اسلامی اور دیگر پارٹیاں بھی مسلم لیگ ن کی مخالفت میں ایک ہو کر آیندہ چھ ماہ میں چوہدری شجاعت کے بقول ایک مضبوط اپوزیشن بن جائیں گی جب کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ اب تک قومی سطح کی صرف ایک جماعت جمعیت علمائے اسلام کھڑی ہے جسے بھی ن لیگ سے تحفظات ہیں کہ ہمیں حلیف ہوتے ہوئے بھی بلوچستان کے سلسلے میں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔
وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے صدارتی امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب تو کرا لیا ہے مگر انھیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے اور ن لیگ کے چھوٹے حلیف بھی ناراض ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کی اتنی جلد توقع نہیں تھی۔ نواز شریف نے ممنون حسین کو صدر تو اپنی مرضی سے منتخب کرا لیا ہے مگر خود مسلم لیگ ن میں دراڑ بھی ڈال دی ہے اور ہر کوئی ممنون حسین کو صرف نواز شریف کا انتخاب قرار دے رہا ہے اور ن لیگ کے رہنما مجبوری میں تائید کر رہے ہیں۔
ممنون حسین ملک میں ایسی بھاری بھرکم شخصیت ہرگز نہیں ہیں اور وہ صرف وزیر اعظم کی پسندیدہ شخصیت ہیں جس کی وجہ سے ان کو بھی وہ اعزاز حاصل ہو گیا ہے جس کی توقع صدر آصف علی کی طرح ممنون حسین کو بھی نہیں تھی۔ ممنون حسین کو صدر منتخب کرانے کے فیصلے نے میاں نواز شریف کی اصول پرستی کے موقف پر کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور وہ آج بھی 1997 میں موجود ہیں جب انھوں نے محمد رفیق تارڑ کو صدر منتخب کرا کر سب کو حیران کر دیا تھا اور اب 2013 میں بھی ممنون حسین کو صدر بنوا کر غیروں کو ہی نہیں بلکہ اپنوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔
مسلم لیگ ن میں سندھ سے تعلق رکھنے والے غوث علی شاہ سمیت متعدد رہنما موجود ہیں جو ممنون حسین سے سینئر ہیں اور ملکی صدارت اور ن لیگ کی سیاست کے لیے موزوں بھی ہیں مگر نہ جانے انھیں کیوں نظر انداز کیا گیا۔ شیخ رشید احمد کا کہنا درست ہے کہ جب کامیابی کا کوئی امکان نہیں تھا تو نواز شریف نے سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی کو اپنا صدارتی امیدوار بنایا تھا اور اب جب کامیابی کا امکان واضح تھا تو انھیں نظر انداز کر کے ممنون حسین کو نواز دیا گیا۔
ممنون حسین صدر تو منتخب ہوئے مگر ان کے انتخاب سے ملک کی سیاست میں کشیدگی بڑھنے لگی ہے اور لگتا ہے ن لیگ کے مخالفین آیندہ چند ماہ میں حکومت کو اہم معاملات پر ٹف ٹائم دیں گے اور عمران خان نے مجوزہ اے پی سی میں شمولیت سے انکار کر کے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ اہم قومی معاملات پر مفاہمت کے موڈ میں نہیں ہیں۔ عمران خان اب تک اپنی شکست کو نہیں بھولے کیونکہ ان کا سو فیصد خیال تھا کہ تحریک انصاف اکثریت حاصل کر لیتی اور وہ وزیر اعظم بن جاتے مگر ایسا نہیں ہوا اس لیے وہ ذہنی طور پر ن لیگ کی حکومت کے ساتھ چلنے پر آمادہ نظر نہیں آتے اور صدارتی الیکشن نے انھیں اسی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر سیاست کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس کو وہ ن لیگ کی طرح برا سمجھتے تھے۔ دونوں پارٹیوں میں ملاقاتیں شروع ہو چکی ہیں۔ ایک کے پاس سندھ کی حکومت ہے تو دوسری کے پی کے میں برسر اقتدار ہے۔
صدارتی انتخاب کے سلسلے میں ن لیگ نے اپنے امیدوار کی کامیابی کے لیے متحدہ سے جو رابطہ کیا ہے اس سے ن لیگ کے مخالفین کو ہی نہیں بلکہ اپنے حامیوں اور خصوصاً سندھ کے قوم پرستوں کو بھی ن لیگ کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کا موقع مل گیا ہے اور میاں نواز شریف اور ن لیگ پر ان سمیت قوم پرستوں نے برسنا شروع کر دیا ہے اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ نے ن لیگ کے وفد سے ہی ملنے سے انکار کر دیا۔ متحدہ سے صرف ن لیگ نے ووٹ مانگے ہیں جو انھوں نے جماعت اسلامی، جے یو آئی اور آفتاب شیرپائو کے پاس جا کر بھی مانگے مگر ن لیگ کے وفد کا نائن زیرو آنا متحدہ مخالف حلقوں میں بہت ہی ناروا سمجھا گیا۔
ماضی میں میاں نواز شریف نے متحدہ کے خلاف جو بیانات دیے تھے اور متحدہ کو تنہا کرنے کی جو لندن میں قرار داد پاس کرائی تھی اس کے نتیجے میں ن لیگ کو کسی بھی صورت میں متحدہ کے پاس نہیں آنا چاہیے تھا مگر صدارتی الیکشن ن لیگ کی مجبوری بن گیا اور میاں نواز شریف اور ن لیگ کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ اب متحدہ اور ن لیگ کی طرف سے لاکھ کہا جائے کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی اور ایک دوسرے کے لیے ملنے کے دروازے مستقل بند نہیں کیے جاتے کہنے کو یہ درست ہے اور اسی لیے کہا جاتا ہے کہ رہنمائوں کو مستقبل کو سامنے رکھ کر بیان داغنے چاہئیں مگر میاں نواز شریف نے یہ احتیاط نہیں کی اور ن لیگ کو 15سال بعد متحدہ کے پاس آنا پڑا۔ ن لیگ کے نہ آنے کی صورت میں متحدہ بھی پی پی کی طرح صدارتی الیکشن کا بائیکاٹ کرتی اور تحریک انصاف کے امیدوار کو بھی ووٹ نہ دیتی اور اسے مجبوری میں سندھ میں ایک بار پھر پی پی کے ساتھ ملنا پڑتا۔
صدارتی انتخاب نے واقعی ملک میں سیاسی تپش دو چند کر دی ہے کیونکہ ن لیگ نے متحدہ سے ووٹ مانگے مگر تحریک انصاف اور ق لیگ سے رابطہ کرنا ضروری ہی نہیں سمجھا۔ جب ن لیگ جنرل مشرف کی سابقہ حلیف متحدہ کے پاس آ سکتی ہے اور میاں نواز شریف عمران خان سے ملنے جا سکتے ہیں اور مشرف حکومت کے وزراء کو اپنی حکومت اور ن لیگ میں شامل کر سکتے ہیں تو اپنے پرانے ساتھی چوہدری شجاعت کے لیے اپنا دل کھول سکتے تھے مگر انھوں نے چوہدری برادران کے لیے اپنے دل اور ن لیگ کے دروازے بند کر کے ایسا ہی اقدام کیا ہے جو انھوں نے لندن میں متحدہ کے لیے کیا تھا مگر آج متحدہ سے ووٹ مانگنے کے لیے ن لیگ کے وفد کو نائن زیرو بھیجنا پڑا۔
پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کر کے سیاسی کشیدگی میں جو اضافہ کیا ہے وہ کسی بھی طرح جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ پی پی کو رضا ربانی کی ہار تو پہلے ہی نظر آ رہی تھی اسی لیے صدارتی الیکشن ایک ہفتہ قبل کرائے جانے کو جواز بنایا گیا اور ملک کے سیاسی ماحول کو پراگندہ کیا گیا، تحریک انصاف کے امیدوار کی شکست بھی واضح تھی، وہ رسمی کارروائی ہی تھی۔ مگر مستقبل کا سیناریو کہتا ہے کہ اس بہانے عمران خان کو پی پی کے قریب آنے کا موقع ملے گا اور دونوں مل کر ن لیگ حکومت کے لیے ایک مضبوط اور موثر اپوزیشن ثابت ہوں گی اور حکومت کے لیے مسائل میں اضافے کا باعث بنیں گی۔