
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ افسوس ناک واقعہ الکرامہ کے علاقے میں ایک کھیت میں پیش آیا جہاں صبح سویرے ٹین کی چادروں سے بنے گھر میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ اتنی خوفناک تھی کہ اس نے تیزی سے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اندر موجود لوگوں کو جان بچانے کا موقع نہ مل سکا۔ آتش زدگی سے 13 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں 8 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں۔

حکام نے بتایا کہ اس گھر میں دو پاکستانی خاندان رہائش پذیر تھے۔ زخمیوں کو اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ بعض افراد کے مطابق آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی تاہم حتمی وجہ معلوم نہیں ہوسکی اور واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
شاهد الفيديو: “الغد” في موقع فاجعة "حريق الكرامة" الذي أودى بحياة 13 باكستانياً بينهم 8 أطفال
— جريدة الغد (@AlghadNews) December 2, 2019
https://t.co/X4e8rTXdXX#الغد #الأردن #حريق_الكرامة #الشونة_الجنوبية pic.twitter.com/uRR56Nfsdg
دوسری جانب وزارت خارجہ نے 13 پاکستانی افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بیان جاری کیا ہے کہ گزشتہ روز شارٹ سرکٹ کے باعث لگی آگ میں 7 بچے، 4 خواتین اور 2 مرد جاں بحق ہوئے، تمام افراد ایک ہی خاندان سے تھے اور ان کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے ہے۔
۔

ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق علی شیر جویا اور ان کا خاندان 1970 کی دہائی میں اردن منتقل ہوا، علی شیر خاندان کا سربراہ بھی ہے اور وہ خوش قسمتی سے آتشزدگی میں محفوظ رہا، عمان میں پاکستانی سفارت خانہ متاثرہ افراد کے لواحقین سے رابطہ میں ہے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔