اسامہ یا طالبان سب مغربی پالیسیوں کی پیداوار ہیں شہباز شریف

پاکستان کیلیے اسکاخاتمہ چیلنج ہے،تجارتی تعاون اورفنی امداد چاہیے،پاک جرمن بزنس فورم سے خطاب

پاکستان میں ڈکٹیٹر شپ قصہ پارینہ بن چکی، آج عدالتیں اور میڈیا آزاد ہیں، کوشش ہے نوجوان انتہاپسندی کی طرف مائل نہ ہوں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہاہے کہ پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ کامعاملہ قصہ پارینہ بن چکاہے اوراب ملک میں انصاف اورجمہوریت کا دور دورہ ہے۔دہشت گردی کی بنیادیں80ء کی دہائی میں افغانستان میںہونے والے واقعات میں باآسانی تلاش کی جاسکتی ہیں۔

یہ کوئی رازنہیں کہ اسامہ بن لادن یاعسکریت پسند طالبان یہ سب مغرب کی افغان پالیسی کی پیداوار ہیں۔گزشتہ روزبرلن میںپاکستان جرمن بزنس فورم کے اہم اجلاس سے خطاب میں انھوںنے کہاکہ آج عدالتیں آزاد ہیں اور میڈیا اپنا کرداربخوبی اداکررہاہے۔




پاکستان کیلیے دہشتگردی کاخاتمہ ایک بڑاچیلنج ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں50 ہزارسے زائدقیمتی جانوںکی قربانیاں دے چکاہے۔پاکستان کی60فیصدآبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اورحکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان کے نوجوان انتہا پسندی کی جانب جانے کی بجائے اپنی صلاحیتوںکے ذریعے پاکستان کی معیشت کو آگے بڑھانے میںاپنامثبت کرداراداکریں۔

Recommended Stories

Load Next Story