قائد کے دیس کا احوال

کیا ہم نے وہ سب حاصل کیا جس کےلیے ہم نے انگریزوں اور ہندوؤں سے جنگ کی تھی؟


یسریٰ طیب December 25, 2019
کیا آج کے پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان کہا جاسکتا ہے؟ (فوٹو: فائل)

دسمبر کے مہینے کا آغاز ہوتے ہی بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی سالگرہ کے حوالے سے سڑکوں پر جگہ جگہ شکریہ جناح کے بل بورڈز کی بہار دکھائی دینے لگی۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ زور و شور سے اس دن کے حوالے سے تقاریب کے انعقاد کی تیاریاں شروع کردیتے ہیں، تاکہ قوم کے معمار وطن عزیز کو وجود میں لانے کےلیے کی جانے والی انتھک محنت اورجدوجہد کو یاد رکھیں۔ ایک علیحدہ ریاست پاکستان بنانے کےلیے عملی اقدامات کی یاد دہانی کرانے کےلیے لمبی لمبی پرزور تقاریر کی جاتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے بھی ہدایات دی جاتی ہیں کہ قائد ڈے بھرپور اور شایان شان طریقے سے منانے کےلیے تمام ادارے اقدامات کریں۔ لیکن عظیم لیڈر جس نے قوم کو غلامی سے نجات دلائی، جس کی بدولت ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا قیام عمل میں آیا۔ اس کو یاد رکھنے کےلیے کیا صرف یہ سب کرنا کافی ہے؟

مہنگے مہنگے برانڈڈ اسٹورز پر قائداعظم ڈے کی مناسبت سے ڈسکاؤنٹ آفرز لگادی جاتی ہیں اور لوگوں کو صرف یہ آفرز ہی یاد رہتی ہیں، اس سے آگے وہ کچھ سوچ سمجھ نہیں پاتے۔ قیام پاکتسان کےلیے کتنی بڑی قیمت تھی جو قائداعظم محمد علی جناح نے ادا کی۔ اس کٹھن اور مشکل کام کےلیے انہیں کتنی محنت اور کوشش کرنی پڑی۔ لوگوں نے آگ اور خون کا دریا پار کیا تو آزادی ملی۔ قوم اس آزادی کےلیے دی جانے والی قربانیوں کو فراموش کرتی جارہی ہے۔ یہ ملک مسلمانوں کےلیے کن مقاصد کی بنیاد پر حاصل کیا گیا، یہاں تک سوچنے کی شاید کسی کے پاس فرصت ہی نہیں ہے۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ عظیم لیڈر کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے کیا صرف یہی اقدامات کرنا کافی ہیں؟ کیا بحیثیت قوم ہم اپنے قائد کے فرمان پر عمل پیرا ہیں؟

کیا ہم نے وہ سب حاصل کیا جس کےلیے ہم نے انگریزوں اور ہندوؤں سے جنگ کی تھی؟ کیا آج کے پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان کہا جاسکتا ہے؟ جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور جسے تعبیر جناح کی کوششوں سے ملی۔ وہ پاکستان جس کا تصور قائداعظم نے اپنے اصولوں کی روشنی میں دیا تھا، کیا ہم سب آج اسی پاکستان کے رہائشی ہیں؟ کیا آج کے پاکستان کے موجودہ حالات جناح کی جدوجہد اور سوچ سے میل کھاتے ہیں؟

ماضی کے جھرونکوں میں دیکھیں تو پتا چلتا ہے جناح نے نئے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کےلیے کن اصولوں پر چلنے کےلیے کہا تھا۔ قائداعظم نے قوم کو واضح پیغام دیا تھا کہ اتحاد، ایمان اور تنظیم ان چیزوں کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیجئے گا۔

کیا آج ہم سب اس اصول پر عمل پیرا ہیں؟ یہ اصول تو جیسے گزرے ہوئے زمانے کی باتیں لگتے ہیں۔ کام، کام اور کام کے ساتھ کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنے والے پاکستانیوں نے ہیراپھیری کو اپنا اہم ہتھیار سمجھنا شروع کردیا ہے۔ آج کل ہم سب شارٹ کٹ کے ذریعے ایک ہی جست میں نمبر ون بننے کی خواہش میں مبتلا نہیں ہیں کیا؟ لوٹ کھسوٹ ہمارے خون میں شامل ہوگئی ہے۔ بانی پاکستان نے ایک غلام قوم کو آزادی دلائی مگر آج اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہماری قوم غلامی کی رنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ہم اپنی خواہشات اور نفس کے غلام ہیں۔ حرص اور خودغرضی کی بدولت کسی کو خود سے آگے بڑھتا دیکھیں تو اس کی ٹانگیں کھینچنے لگ جاتے ہیں۔ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا فرق تو جیسے مٹ کر رہ گیا ہے۔

ایک الگ قوم ہونے کی بنیاد پر علیحدہ وطن حاصل کیا گیا تھا، لیکن کیا ہم سب آج ایک قوم ہیں؟ بنیادی حقوق سے محرومی، مہنگائی، غربت، بے روزگاری، ظلم و زیادتی، قتل و غارت گری، بے حسی، دہشت گردی، ناانصافی، کرپشن، یہ ہیں وہ تمام چیزیں جو مل جائیں تو بنتا ہے اکیسویں صدی کا پاکستان۔ کیا یہی تھا پاکستان بنانے کا مقصد؟

جناح کا خواب تو برداشت، اخوت اور بھائی چارے والا پاکستان تھا۔ جس کی تعبیر ممکن نہ ہوسکی۔ یہ ہم کس قسم کا پاکستان تشکیل دے رہے ہیں، جہاں ریاست مدینہ تو دورکی بات، یہ تو جناح کا پاکستان بھی نہیں ہے۔ اپنے وطن عزیز کا یہ حال دیکھ کر قائد کی روح بھی بے چین ہوتی ہوگی۔ کیا وہ پاکستان کا مستقبل ایسا دیکھنا چاہتے تھے؟

بجلی، گیس غائب، پانی ناپید، صحت کےلیے عوام پریشان، بچے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ قدرت نے پاکستان کو دنیا کی ہر نعمت سے نوازا ہے پھر بھی مسائل کا انبار کیوں؟ قدرتی وسائل کو بروئے کار لاکر ملک کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کیوں نہیں کیا جارہا؟ کیا دانستہ ایسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں جو انتشار کا باعث بنیں اور دشمن کا کام آسان ہوجائے؟ یہ تمام باتیں ہمیں بحیثیت قوم ضرور سوچنی چاہئیں۔

آج پاکستان کو جن مشکلات کا سامنا ہے، ان کا تقاضا ہے کہ ہر شعبہ زندگی میں انقلابی تبدیلیاں کی جائیں۔ بچے، بوڑھے جوان سب ساتھ دیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ملک ترقی کرے گا اور جدید ملکوں کی دوڑ میں شامل ہوگا۔ ہمیں اس بات کا عزم کرنا ہے کہ اس ملک کو ہم نے قائداعظم کے اصولوں کے عین مطابق چلانا ہے۔ معاشی، قومی اور جذباتی طور پر مضبوط بننا ہے۔ دیانت داری، خلوص اور بے غرضی سے پاکستان کی خدمت کرنے والا بننا ہے۔ نیا پاکستان نہ سہی ایسے پاکستان کی بنیاد رکھنی ہے جہاں سب کی عزت ہو تاکہ بیرون ممالک والے بھی ہماری عزت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ یہی قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ قائد کا پاکستان لوٹانے کی ذمے داری اب آپ کی ہے۔ جناح کے پاکستان کا خواب ہمیں خود پورا کرنا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مقبول خبریں