ایک گرام کی روبوٹ مکھی جو اپنے جسم سے 5 گنا وزن اٹھاسکتی ہے

مکھی کی تین ٹانگیں ایک سیکنڈ میں 400 مرتبہ ہلتی ہیں اور سخت جان روبوٹ مکھی چوٹ بھی سہہ سکتی ہے


ویب ڈیسک December 25, 2019
فرانسیسی ماہرین کی تیارکردہ مکھی کا وزن ایک گرام سے بھی کم ہے۔ فوٹو: ڈیلی میل

دنیا بھر میں کیڑے مکوڑوں سے متاثر ہو کر روبوٹ بنانے کی دوڑ جاری ہے اب فرانس کے ماہرین نے روبوٹ مکھی بنائی ہے جس کا وزن صرف ایک گرام ہے اور یہ اپنے وزن سے پانچ گنا زائد وزن اٹھاسکتی ہے۔

اب اگر اسے آپ مکھی مارنے والی چھڑی سے کئی دفعہ پچکانے کی کوشش کریں تب بھی یہ دب کر دوبارہ کھڑی ہوجاتی ہے اور چلنے لگتی ہے۔ اسے ڈینسیکٹ DEAnsect کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں مصنوعی پٹھوں کی مدد سے تین ٹانگیں بنائی گئی ہیں جو ایک سیکنڈ میں 400 مرتبہ حرکت کرتی ہیں۔



DEAnsect درحقیقت 'ڈائی الیکٹرک ایلاسٹومر ایکچوایٹرز' کا مخفف ہے جس پر بال سے باریک مصنوعی پٹھے لگے ہوئے ہیں جو ارتعاش سے مکھی کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ روبوٹ مکھی اڑتی نہیں بلکہ یہ اونچے نیچے راستوں پر چلتی رہتی ہے۔ حیرت انگیز روبوٹ مکھی کا وزن ایک گرام سے بھی کم ہے لیکن یہ اپنے وزن سے پانچ گنا زائد بوجھ اٹھاسکتی ہے۔


مکھی کو نمائشی شے کہنے کی بجائے کئی اہم امور انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ مکھی میں نصب فوٹوڈائیوڈز اس کے لیے آنکھوں کا کردار ادا کرتے ہیں اور مائیکرو کنٹرولر اس کے دماغ کا کام کرتے ہیں۔

ماہرین نے اس عجیب و غریب مکھی کو طرح طرح کے ٹیسٹ سے گزارا ہے۔ مکھی کو مکھی مار اسٹک سے کچلا گیا اور اسے موڑا گیا لیکن یہ نہیں مرتی اور اپنا کام کرتی رہتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مکھی خودکار انداز میں بھی کام کرسکتی ہے اور کسی مقررہ راستے پر چلتی رہتی ہے۔

مقبول خبریں