مصر کی عدالت نے پابندی کے خلاف اخوان المسلمون کی درخواست مسترد کردی
اخوان المسلمون کے پلیٹ فارم سے ملک میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا غیر سیاسی سرگرمی جاری نہیں رکھی جاسکتی،عدالتی فیصلہ
مصر کی عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمون پر پابندی کے خلاف دائر درخواست مسترد کردی۔
غیر ملکی خبر رساں ادرے کے مطابق دارالحکومت قاہرہ میں ہنگامی درخواستیں سننے والی خصوصی عدالت نے اخوان المسلمون پر پابندی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی، عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد اخوان المسلمون پر پابندی کے پچھلے عدالتی فیصلے کو برقرار رکھا، عدالتی فیصلے کے مطابق اخوان المسلمون کے پلیٹ فارم سے ملک میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا غیر سیاسی سرگرمیوں کو جاری نہیں رکھا جاسکتا۔
واضح رہے کہ اخوان المسلمون مصر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت ہے اور اس کی سماجی خدمت کے اداروں سے بھی ہزاروں لوگ وابستہ ہیں، سابق صدر محمد مرسی بھی اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کی برطرفی کے بعد ستمبر میں اخوان المسلمون پر سیاسی جماعت کی حیثیت سے پابندی لگادی گئی تھی تاہم بعد میں اسے سماجی کاموں میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادرے کے مطابق دارالحکومت قاہرہ میں ہنگامی درخواستیں سننے والی خصوصی عدالت نے اخوان المسلمون پر پابندی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی، عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد اخوان المسلمون پر پابندی کے پچھلے عدالتی فیصلے کو برقرار رکھا، عدالتی فیصلے کے مطابق اخوان المسلمون کے پلیٹ فارم سے ملک میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا غیر سیاسی سرگرمیوں کو جاری نہیں رکھا جاسکتا۔
واضح رہے کہ اخوان المسلمون مصر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت ہے اور اس کی سماجی خدمت کے اداروں سے بھی ہزاروں لوگ وابستہ ہیں، سابق صدر محمد مرسی بھی اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کی برطرفی کے بعد ستمبر میں اخوان المسلمون پر سیاسی جماعت کی حیثیت سے پابندی لگادی گئی تھی تاہم بعد میں اسے سماجی کاموں میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا تھا۔