کورونا وائرس پاکستانی نوجوان نے خلیوں میں مزاحمت کا طریقہ ڈھونڈ لیا

محمد علی 40لاکھ مالیکیولزاورکمپاؤنڈز کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کیا جو کورونا وائرس کے علاج میں معاون ثابت ہوسکیں۔


Kashif Hussain March 30, 2020
محمد علی 40لاکھ مالیکیولزاورکمپاؤنڈز کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کیا

محمد علی شاہ بھی ان دنوں لاک ڈاؤن میں ہیں لیکن اپنا یہ قیمتی وقت تحقیق میں صرف کررہے ہیں حالیہ دنوں میں انھوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے کورونا وائرس کی بناوٹ اور انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا اور ٹھوس نتائج پر پہنچنے میں کامیاب رہے جو کرونا وائرس سے بچاؤ اور اس کے علاج کا طریقہ دریافت کرنے کی جانب بنیاد فراہم کرتا ہے.

محمد علی نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سینٹھیٹک اینٹی جینز کی تیاری کے لیے مصنوعی ذہانت کے ایک ایڈوانس طریقے ڈیپ لرننگ تکنیک کا استعمال کیا، پہلے پہل انھوں نے مصنوعی ذہانت کے طریقے سے کورونا وائرس کے علاج کی دوا کی تیاری پر توجہ دی لیکن پھر ایسے اینٹی باڈیز کی تلاش شروع کردی جو انسان کے نظام تنفس کو کورونا وائرس کے حملے سے بچاسکیں اور متاثرہ افراد کو پہنچنے والے نقصانات کو کم کرکے کورونا وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکیں۔

محمد علی 40لاکھ مالیکیولز اور کمپاؤنڈز کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کیا جو کورونا وائرس کے علاج میں معاون ثابت ہوسکیں او ر ان سے کارگر ترین اینٹی باڈیز بنائے جاسکیں جو کرونا کے وائرس سے چپک کر اسے انسانی نظام تنفس میں پنجے گاڑھنے سے روک سکیں، چار روز تک جاری رہنے والی تحقیق کا مرکز کورونا وائرس پر خار پشت porcupine جیسے کانٹے دار بناوٹ تھی جو انسانی جسم میں داخل ہوکر پروٹین بنانے والے بلاکس سے چپک جاتے ہیں۔

محمد علی شاہ کی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کے جراثیم کو انسانی جسم یا نظام تنفس میں پروٹین بلاکس سے چپکنے سے بچانے کے لیے ایک ایسی ویکسین کا تیار ہونا ضروری ہے جو جنیاتی مواد کے ذریعے انسانی جسم کے خلیات کو کرونا کے وائرس سے پزل گیم کی طرح لڑنا سکھائے یعنی ویکسین کے جرثومے انسانی خلیوں کو کورونا کے ہر وائرس کے حساب سے اینٹی باڈیز کی ایک ایسی شکل بنائے جو وائرس سے لپٹ کر اس کے کانٹوں کو انسانی خلیوں میں پیوست ہونے سے روک سکیں۔

 

تبصرے

کا جواب دے رہا ہے۔ X

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مقبول خبریں