ناراض بلوچ بھائيوں سے بات چيت وزيراعظم كے وژن كا حصہ ہے نامزد گورنر بلوچستان
گورنر كا منصب صوبے اور وفاق كے درمیان پل كی مانند ہے بلوچستان وسائل سے مالامال اور امیر صوبہ ہے، سید ظہور آغا
بلوچستان کے لیے نامزد گورنر سید ظہور آغا نے کہا ہے کہ ناراض بلوچ بھائیوں سے بات چیت وزیراعظم كے وژن كا حصہ ہے، بلوچستان كے مسائل حل كرنے کے لیے تمام صلاحیتوں كو بروئے كارلایاجائے گا۔
نامزد گورنر بلوچستان سید ظہور آغا نے كہا ہے كہ وہ بلوچستان كے مسائل حل كرنے كے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں كو بروئے كار لاتے ہوئے وزیراعظم پاكستان عمران خان كے اعتماد پر پورا اترنے كی بھر پور كوشش كریں گے ، گورنر شپ كا منصب صوبے اور وفاق كے درمیان پل كی مانند ہے۔ كوشش ہوگی كہ مركز اور صوبے كے درمیان بہترین ہم آہنگی ہو۔ صوبے میں تعلیم كی بہتری كے لیے میرٹ كے نفاذ اور اس پر عمل درآمد كے لیے ہر ممكن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ناراض بلوچ بھائیوں سے بات چیت عمران خان كے وژن اور دیرینہ سوچ كا حصہ ہے۔ 2007 میں موجودہ صدر مملكت ڈاكٹر عارف علوی كے ہمراہ كوئٹہ میں پارٹی وركرز كنونشن سے خطاب كرتے ہوئے عمران خان نے یہی بات كہی تھی كہ وہ بلوچ بھائیوں سے بات كریں گے اور انہیں قومی دھارے میں شامل كرنے كی دعوت دیں گے تاكہ وہ صوبے كے دیگر شہریوں كی طرح بلوچستان كی تعمیر و ترقی میں كردار ادا كرسكے۔
انہوں نے كہا كہ میری پہلی ترجیح اورعمران خان كاویژن تعلیمی اداروں میں میرٹ كا نفاذ اور اس پر عمل درآمد ہے، جس کے لیے اہل اور قابل لوگوں كو ترجیح دی جائے گی، تاكہ تعلیمی میدان میں درپیش چیلنجز سے نمٹا جاسكے۔ بلوچستان وسائل سے مالامال اور امیر صوبہ ہے اس میں بہتر منصوبہ بندی كی ضرورت ہے، كوشش ہوگی كہ وفاق اور صوبے كے درمیان بہترین ہم آہنگی رہے تاكہ ماضی كی محرومیوں اور كوتاہیوں كا ازالہ كیا جاسكے۔
نامزد گورنر بلوچستان سید ظہور آغا نے كہا ہے كہ وہ بلوچستان كے مسائل حل كرنے كے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں كو بروئے كار لاتے ہوئے وزیراعظم پاكستان عمران خان كے اعتماد پر پورا اترنے كی بھر پور كوشش كریں گے ، گورنر شپ كا منصب صوبے اور وفاق كے درمیان پل كی مانند ہے۔ كوشش ہوگی كہ مركز اور صوبے كے درمیان بہترین ہم آہنگی ہو۔ صوبے میں تعلیم كی بہتری كے لیے میرٹ كے نفاذ اور اس پر عمل درآمد كے لیے ہر ممكن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ناراض بلوچ بھائیوں سے بات چیت عمران خان كے وژن اور دیرینہ سوچ كا حصہ ہے۔ 2007 میں موجودہ صدر مملكت ڈاكٹر عارف علوی كے ہمراہ كوئٹہ میں پارٹی وركرز كنونشن سے خطاب كرتے ہوئے عمران خان نے یہی بات كہی تھی كہ وہ بلوچ بھائیوں سے بات كریں گے اور انہیں قومی دھارے میں شامل كرنے كی دعوت دیں گے تاكہ وہ صوبے كے دیگر شہریوں كی طرح بلوچستان كی تعمیر و ترقی میں كردار ادا كرسكے۔
انہوں نے كہا كہ میری پہلی ترجیح اورعمران خان كاویژن تعلیمی اداروں میں میرٹ كا نفاذ اور اس پر عمل درآمد ہے، جس کے لیے اہل اور قابل لوگوں كو ترجیح دی جائے گی، تاكہ تعلیمی میدان میں درپیش چیلنجز سے نمٹا جاسكے۔ بلوچستان وسائل سے مالامال اور امیر صوبہ ہے اس میں بہتر منصوبہ بندی كی ضرورت ہے، كوشش ہوگی كہ وفاق اور صوبے كے درمیان بہترین ہم آہنگی رہے تاكہ ماضی كی محرومیوں اور كوتاہیوں كا ازالہ كیا جاسكے۔