ٹرانزٹ معاہدہ پاکستانی اورازبک ٹرک ایک دوسرے کے ملک داخل ہو سکیں گے

معاہدے کے تحت ازبکستان اورپاکستان یہ یقینی بنانے کے پابند ہیں کہ سرحدی گزرگاہوں پرمناسب انفراسٹرکچر اوراہلکار میسرہوں۔

معاہدے کے تحت ازبکستان اورپاکستان یہ یقینی بنانے کے پابند ہیں کہ سرحدی گزرگاہوں پرمناسب انفراسٹرکچر اوراہلکار میسرہوں۔ فوٹو؛ سوشل میڈیا

پاکستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے سے ازبکستان گوادر بندرگاہ سے دنیا بھر میں رسائی حاصل کرے گا۔

پاکستان کے ازبکستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے سے پاکستان کو وسطی ایشیاکی90ارب ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی، ازبکستان گوادر بندرگاہ سے دنیا بھر میں رسائی حاصل کرے گا۔


گوادر پرو کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے افغانستان بھی ٹرانزٹ فیس کی مد میں اچھی خاصی رقم حاصل کر گا۔ فی الحال ازبکستان ترکمانستان کے راستے ایرانی بندرگاہ بندر عباس پر انحصارکرتا ہے۔

معاہدے کے تحت ازبکستان اور پاکستان یہ یقینی بنانے کے پابند ہیں کہ سرحدی گزرگاہوں پر مناسب انفراسٹرکچر اور اہلکار میسر ہوں۔ ہر ملک اپنے علاقے میں رجسٹرڈ ٹرانسپورٹ آپریٹرزکو لائسنس دینے کا ذمے دار ہوگا، ازبک ٹرک سامان پاکستانی ٹرکوں پر دوبارہ لوڈ کرنے کے بجائے پاکستانی بندرگاہوں تک سامان لے جاسکیں گے۔
Load Next Story