فیصل واوڈا نے تاحیات نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا
الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قراردے کر بطور سینیٹر بحال کیا جائے، فیصل واوڈا
WASHINGTON:
پی ٹی آئی کے سابق سینیٹر فیصل واوڈا نے تاحیات نا اہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنی نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل ایڈووکیٹ وسیم سجاد کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔
اپیل میں الیکشن کمیشن اور مخالف شکایت کنندگان کو فریق بنایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحیات نااہل کرنے کا اختیار نہیں تھا، الیکشن کمیشن مجاز کورٹ آف لاء نہیں تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے عجلت میں اپیل خارج کردی۔
اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کا نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر سینیٹر کے عہدے پر بحال کیا جائے تاہم ہائی کورٹ سے مسترد ہونے پر فیصل واوڈا نے اب سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔
پی ٹی آئی کے سابق سینیٹر فیصل واوڈا نے تاحیات نا اہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنی نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل ایڈووکیٹ وسیم سجاد کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔
اپیل میں الیکشن کمیشن اور مخالف شکایت کنندگان کو فریق بنایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحیات نااہل کرنے کا اختیار نہیں تھا، الیکشن کمیشن مجاز کورٹ آف لاء نہیں تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے عجلت میں اپیل خارج کردی۔
اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کا نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر سینیٹر کے عہدے پر بحال کیا جائے تاہم ہائی کورٹ سے مسترد ہونے پر فیصل واوڈا نے اب سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔