
وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نور مقدم کیس کا فیصلہ درست ہے لیکن افسوس ہے ان کے والدین کو ریلیف دے دیا گیا، گھر کا جو اسٹاف تھا انہیں سزا دی گئی لیکن والدین مسلسل رابطے میں تھے انہیں سزا نہیں ملی۔
مزید پڑھیں: نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کو سزائے موت کا حکم
شیریں مزاری نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی تھراپی ورکس والے جو اتنا بھیانک کیس چھپانے گئے تھے انہیں بھی ریلیف دے دیا گیا تاہم کیس کے مرکزی مجرم کو سزا مل گئی ہے جو کہ اچھی بات ہے اب وہ اپیل میں جائیں گے تو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
شیریں مزاری نے مزید کہا کہ خواتین کی ٹرولنگ اور ہراسانی سے متعلق قانون بنا ہوا ہے جسے وسعت بھی دی گئی ہے، خواتین صحافی ہوں یا دیگر اداروں میں کام کرتی ہوں، انہیں اپنے کیسز لے کر آنے چاہئیں۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔