
ڈاکٹر رضوان کو لاہور میں دل کا دورہ پڑا جس سے وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔ وہ جوہر ٹاؤن کے رہنے والے تھے۔ ان کی پہچان ایک دلیر اور فرض شناس افسر کے طور پر تھی۔ وہ شہباز شریف کیخلاف انکوائری کررہے تھے اور موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی انہیں عہدے سے ہٹادیا تھا۔ انہوں نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی بھی تحقیقات کیں۔
پہلے اسی طرح سے نیب کے آفیسر کو قتل کیا گیا بعد میں خود کشی قرار۔ آیان علی کے واقعہ میں گرفتار کرنیوالا بھی قتل۔اور کتنے قتل کرنے ہیں اس مافیہ نے۔یہ امپورٹڈ رجیم لوگوں کو دن دیہاڑ قتل کر رہی،منصوبہ بندی کرکے اسے حادثہ قرار دلوا رہی ہے-عوام کو سب دیکھ رہی کہ قاتل مسلط ہو گئے ہیں https://t.co/CObdrLkMtO
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) May 9, 2022
وہ شوگر مافیا کیخلاف تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ بھی تھے اور مافیا کے دباؤ پر انہیں ہٹایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شوگر مافیا کی جے آئی ٹی کے سربراہ کو تبدیل کر دیا گیا
وہ ایس ایس پی شکار پور بھی رہے جہاں انہوں نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ پی پی کے وزیر امتیاز شیخ، سعید غنی کے بھائی فرحان غنی اجرتی قاتلوں، منشیات فروشوں کے سہولت کار ہیں۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے ڈاکٹر رضوان کے خلاف انکوائری شروع کرادی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی جی خادم حسین اور ایس پی ڈاکٹر رضوان کا تبادلہ غیر قانونی ہے، سندھ ہائیکورٹ
ڈاکٹر رضوان نے نقیب اللہ قتل کیس کی بھی تفتیش کی تھی جس میں انہوں نے ہر طرح کے دباؤ کا سامنا کیا تھا، بالآخر انہیں اس عہدے سے بھی ہٹادیا گیا تھا۔
شہباز شریف کیخلاف TT کیس کرنیوالے بہادر ڈائریکٹر FIA ڈاکٹر رضوان خالق حقیقی سے جا ملے، خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے بہت دلیر اور فرض شناس شخص دنیا سے گیا ہے
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) May 9, 2022
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔