سپریم کورٹ ریویو ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کو کالعدم قرار دینے پر حکومت کی نظرثانی درخواست دائر
سپریم کورٹ نے 11 اگست کو ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز قانون کالعدم قرار دیا تھا
سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کو کالعدم قرار دینے پر وزارت قانون اور دیگر فریقین نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کردی ساتھ ہی اضافی دستاویزات جمع کرانے کے لیے 15 روز کی مہلت بھی مانگ لی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارت قانون نے درخواست میں موقف اختیار کرتے ہوئے فیصلے کو انصاف کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے، عدالت عظمٰی سے 11 اگست کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی ہے۔
حکومت نے نظرثانی درخواست میں اضافی دستاویزات کے لیے 15 روز کی مہلت طلب کی جس پر ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار آفیس نے اضافی دستاویزات کیلئے 15 روزکا وقت دے دیا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 11 اگست کو ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز قانون کالعدم قرار دیا تھا۔سپریم کورٹ نے ریویو ایکٹ کو پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز قرار دیا تھا۔ ریویو ایکٹ میں آرٹیکل 184(3) کے مقدمات کے فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دیا گیا تھا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارت قانون نے درخواست میں موقف اختیار کرتے ہوئے فیصلے کو انصاف کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے، عدالت عظمٰی سے 11 اگست کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی ہے۔
حکومت نے نظرثانی درخواست میں اضافی دستاویزات کے لیے 15 روز کی مہلت طلب کی جس پر ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار آفیس نے اضافی دستاویزات کیلئے 15 روزکا وقت دے دیا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 11 اگست کو ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز قانون کالعدم قرار دیا تھا۔سپریم کورٹ نے ریویو ایکٹ کو پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز قرار دیا تھا۔ ریویو ایکٹ میں آرٹیکل 184(3) کے مقدمات کے فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دیا گیا تھا۔