
ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ پاور شیئرنگ فارمولے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، تحریری معاہدے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، گورنر پنجاب اور حکومت پنجاب کے درمیان وائس چانسلر کی تقرری پر اختلاف نہیں ہونا چاہیے تھا، دونوں مل کر بیٹھتے تو معاملہ حل ہو سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کا آئینی رول ہے، جسے تسلیم کرنا چاہیے، مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی سے دور بھاگ رہی ہے، ہمارے ساتھ سیاسی کی بجائے پنجاب حکومت بیورو کیٹک طرز عمل اپنائے ہوئے ہے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔