
سابق رکن پی سی بی گورننگ بورڈ
نیوزی لینڈ سے تیسرے ٹی 20 انٹرنیشنل میں جب پاکستانی ٹیم نے تیز ترین 200سے زائد رنز کا ہدف پا کر فتح حاصل کی تو شائقین کو ایسا لگنے لگا تھا کہ اب ہمارے مسائل ختم ہو گئے، یہ نوجوان کھلاڑی اگلے سال ٹیم کو ورلڈ چیمپئن بنوا دیں گے، ہمیں حسن نواز کی بیٹنگ میں برائن لارا کی جھلک دکھائی دینے لگی، محمد حارث شاہد آفریدی لگنے لگے جبکہ سلمان علی آغا کی صورت میں بہترین کپتان ملنے کی آس لگا لی گئی۔
یہ ہمارا قصور نہیں دراصل شروع سے ہی ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت خوش ہو جاتے ہیں اور پھر جب توقعات کا محل زمین بوس ہو پھر مایوسی کی گہرائی میں جانا پڑتا ہے، اب بھی ایسا ہی ہوا، چوتھے میچ میں ٹیم نے انتہائی غیرمعیاری کارکردگی دکھائی، 115 رنز سے تاریخ کی سب سے بڑی شکست کے ساتھ سیریز بھی گنوا دی، اب آخری ٹی ٹوئنٹی رسمی کارروائی ثابت ہوگا، آکلینڈ کا گراؤنڈ بہت چھوٹا اور پچ بھی بیٹنگ کیلئے انتہائی سازگار تھی، وہاں مس ہٹ پر بھی لمبا چھکا ہو رہا تھا، قسمت نے ساتھ دیا اور حارث، نواز و سلمان نے جارحانہ بیٹنگ کر کے ٹیم کو فتح دلا دی،البتہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اوپنرز بغیر دیکھے اونچے شاٹس کھیلنے کے عادی ہیں۔
اس طرح بہت کم ہی کامیابی ملتی ہے، جدید دور میں حریف ٹیمیں بھی بہت جلدی خامیاں جانچ لیتی ہیں لہذا ایسے بیٹسمین زیادہ تر جلد آؤٹ ہو جاتے ہیں، حارث کی مثال سامنے ہے، 12 ٹی ٹوئنٹی میچز میں ان کا سب سے بڑا اسکور 41 ہے جو اسی سیریز کے تیسرے میچ میں بنایا، اسی طرح نواز یقینی طور پر باصلاحیت ہیں لیکن اس طرح سے کھیل کر وہ خود کو بڑا بیٹسمین نہیں بنا سکتے، سلمان علی آغا کو بھی بہتری کی ضرورت ہے، شاداب خان کی واپسی پر بہت تنقید ہوئی جو کہ اب درست ثابت ہو گئی ہے، سلیکٹرز نے نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ تشکیل دیا، بابر اعظم اور محمد رضوان کو باہر کر دیا گیا لیکن اس ٹیم میں تجربے کی کمی محسوس ہوئی، کوئی ایساکھلاڑی نہیں تھا جو اننگز کو لے کر آگے بڑھے۔
اسی لیے پہلے میچ میں 91پر آؤٹ ہو گئے اور چوتھے ٹی ٹوئنٹی میں بھی بمشکل سنچری مکمل ہوئی، توازن ضروری ہے، میں بھی نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دینے کا حامی ہوں لیکن نیوزی لینڈ کے مشکل دورے میں انھیں بھیجنا درست نہیں لگتا، یہ کنڈیشنز ان کے لیے نئی تھیں، بولرز کی فارم بھی مایوس کن ہے، حارث رؤف نے اچھی بولنگ کی لیکن شاہین شاہ آفریدی مایوس کر رہے ہیں، انھیں ماضی جیسی فارم واپس لانے کیلئے وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے بولرز سے مدد لینی چاہیے، اس سال چیمپئنز ٹرافی اور اگلے برس ورلڈ کپ ہوگا، ہمیں یقینی طور پر ابھی سے اس کیلئے اچھی ٹیم تیار کرنا ہے لیکن جلد بازی سے بچتے ہوئے سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہوں گے، ہمیں نوجوان کرکٹرز کے ساتھ بعض سینئرز کو بھی رکھ کر انھیں بھی جدید کرکٹ کھیلنے کی تلقین کرنا ہوگی، ساتھ نئے کھلاڑیوں کو سمجھائیں کہ آنکھیں بند کر بیٹ گھمانا جدید کرکٹ نہیں ہے، آپ نے نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں کو بھی دیکھا انھوں نے بھی چھکے لگائے لیکن آڑے ترچھے شاٹس نہیں کھیلے، یقینی طور پر ہمارے نوجوان کرکٹرز باصلاحیت ہیں، میں قطعی طور پر اس تاثر سے متفق نہیں کہ ملک میں ٹیلنٹ آنا بند ہو گیا ہے، ہمارے پاس اچھے کھلاڑی موجود ہیں۔
ضرورت انھیں تلاش کر کے صلاحیتیں نکھارنے کی ہے، میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ پی سی بی نے شکستوں کے بعد تنقید سے ڈر کر تبدیلیاں نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، انہی کھلاڑیوں کو متواتر مواقع دیے جائیں گے، نوجوانوں کو اعتماد دینا اچھی بات ہے، اس سے وہ کھل کر صلاحیتوں کا اظہار کر سکتے ہیں لیکن کیا درست پلیئرز مواقع پا رہے ہیں یہ دیکھنا اہم ہے، ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری ٹیم فتوحات حاصل کرے لیکن اس کیلئے انتھک کوششیں ضروری ہیں، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے جونیئر ٹورز رکھنے چاہیئں تاکہ اگر کسی نوجوان کھلاڑی کو سینئر ٹیم کے ساتھ وہاں جانا پڑے تو وہ کنڈیشنز سے آگاہ ہو، اس طرح وہ اچھا کھیل پیش کر سکے گا اور جدوجہد نہیں کرنا پڑے گی، ابھی جو نئے کھلاڑی نیوزی لینڈ گئے ان میں سے کسی کو بھی وہاں کھیلنے کا تجربہ نہ تھا اسی لیے مسائل ہوئے، آئندہ ایسا نہ ہو اس کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
ایکدم سے سینئرز کو باہر نہیں نکالا جا سکتا، بابر اعظم اور محمد رضوان کی پاکستان کرکٹ کیلئے بڑی خدمات ہیں، یہ دیکھیں کہ انھیں کہاں اور کس انداز سے استعمال کر سکتے ہیں، اگر جونیئر اور سینئرز کے امتزاج سے متوازن اسکواڈ تشکیل دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستانی ٹیم بھی تسلسل سے انٹرنیشنل کرکٹ میں اچھا کھیل پیش نہ کر سکے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔