
سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ آئیڈیلی تحریک انصاف کو اس سیشن کا حصہ بھی ہونا چاہیے اور اس سیشن کا حصہ ہونا چاہیے عمران خان سے مشاورت کے بعد ، جیسے آپ نے کہا اتنا اہم اجلاس ہے جو اہمیت ہوتی ہے ساری پولیٹیکل پارٹیز کی کسی بھی ایسے قومی فیصلے کے اندر سب کا اتفاق رائے کرنا، وہ اس لیے ہوتی ہے کہ قوم کو متحد کیا جاسکے، ظاہر ہے تحریک انصاف کے لیڈر تو عمران خان ہیں چاہے بیرسٹر گوہر چیئرمین کی کرسی پر بیٹھے ہیں یا جو بھی اپوزیشن لیڈر کی کرسی پر ہو۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام اسٹیٹ کرافٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ دلچسپ ہو گا کیونکہ یہ پہلی دفعہ ہو رہا ہے کبھی آج تک پہلے بلاول نے براہ راست تحریک انصاف کے ساتھ یا عمران خان کے ساتھ بات چیت نہیں، وہ پہلی بار یہ کوشش کریں گے تو انٹرسٹنگ ہو گا کہ کیا رسپانس ہوتا ہے۔
ماہر معاشی امور شاہد حسن صدیقی نے کہا بات یہ ہے کہ پاکستان کا درد ہمیں ہے ہم زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، یہ بات بالکل صحیح ہے کہ پاکستان میں اس وقت افراط زر بہت کم ہوا ہے لیکن جو چیز آئی ایم ایف اور کوئی نہیں بتائے گا وہ ہم آپ کو بتا دیتے ہیں، وہ یہ ہوا ہے کہ حکومت پاکستان نے اور اسٹیٹ بینک نے ملکر اگر آپ کو بھی بینک میں اکاؤنٹ ہوگا تو آپ دیکھیے گا،23 ہزار ارب روپے کے ڈپازٹ بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں، جون 2024 میں اگر آپ اپنا اکاؤنٹ جا کر چیک کریں تو اس20.5 فیصد بینکوں نے منافع دیا تھا انہیں لوگوں کو، اسی اکاؤنٹ پر اب منافع کی شرح ہو گئی ہے10.5فیصد جو منافع آپ کو جون میں ملا تھا، فروری اور مارچ میں آدھا ملا ہے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان ان ملکوں میں سے ہے اور ساری دنیا اس کو مانتی ہے دنیا میں موسمیاتی تبدیلی سے جو تباہی آ رہی ہے اس میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اس کا نقصان پاکستان کو جو ٹاپ کے ممالک ہیں اس میں شامل ہے۔
تبصرے
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔