دل کی بیماری دماغی حجم کو کم کرسکتا ہے، تحقیق

دل کے مسائل کا اندازہ لگانا علمی زوال کا جلد پتہ لگانے اور موثر اقدامات کرنے میں مدد دے سکتا ہے، ماہرین


ویب ڈیسک March 29, 2025

ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دل کی بیماری ڈیمنشیا مرض میں نظر آنے والے دماغ کے سکڑنے کا باعث بن سکتی ہے۔

محققین نے جریدے نیورولوجی میں رپورٹ کیا کہ جن لوگوں میں دل کے مسائل کی ابتدائی علامات ہوتی ہیں ان میں دماغی تبدیلیاں ڈیمینشیا سے منسلک ہونے کا زیادہ امکان پیدا ہوجاتا ہے۔

محققین نے پایا کہ خاص طور پر جن لوگوں کے دل مؤثر طریقے سے خون پمپ نہیں کر رہے ہوتے ہیں، ان کے دماغ کے حجم صحت مند دل والے لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔

ہالینڈ کے روٹرڈیم میں ایراسمس یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے سینئر سائنس دان ڈاکٹر فرینک وولٹرز نے ایک نیوز ریلیز میں کہا کہ مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دل کی ہلکی خراب حالت بھی دماغی صحت کے ساتھ منسلک ہے۔

وولٹرز نے مزید کہا کہ لوگوں میں دل کے مسائل کا اندازہ لگانا، یاداشت اور سوچنے کی مہارت کے مسائل کے لیے ہمیں کسی بھی علمی زوال کا جلد پتہ لگانے اور موثر اقدامات کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تبصرے

کا جواب دے رہا ہے۔ X

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مقبول خبریں