سعودی عرب میں بڑھتی طلب، پاکستانی آئی ٹی ماہرین کیلیے نئے مواقع

سعودی کمپنیاں غیر ملکی ماہرین کو پرکشش تنخواہوں کے ساتھ ویزا اسپانسر شپ  اور مراعات فراہم کر رہی ہیں


عثمان حنیف February 07, 2026

کراچی:

پاکستان سعودی عرب کے تیزی سے ترقی کرتے ٹیکنالوجی سیکٹر میں اپنی اعلیٰ ہنر مند افرادی قوت کی برآمدات بڑھانے کیلیے موزوں پوزیشن میں ہے،جہاں ویژن 2030 کے تحت بڑے ترقیاتی منصوبوں کے باعث آئی ٹی ماہرین، خصوصاً مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی،آٹومیشن اورسافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں طلب میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔

ماہرین کے مطابق اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلیے پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دوطرفہ اقدامات، ہدفی مہارت سازی کے پروگرامز اور ادارہ جاتی تعاون کوفروغ دیناناگزیر ہے۔

سرکاری اعداد وشمارکے مطابق 2025 میں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں مقیم پاکستانی کارکنوں کی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار 256 تک پہنچ گئی، یہ تعدادگزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصدزیادہ ہے، یعنی 77ہزارسے زائداضافی پاکستانی کارکن سعودی عرب منتقل ہوئے۔

سعودی عرب میں مقیم آئی ٹی اورسائبر سیکیورٹی ماہر تیمور بٹ کے مطابق ویژن 2030 کے تحت مملکت میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے جاری ہیں،جن کیلیے دنیابھرخصوصاً مسلم ممالک اور پاکستان سے اعلیٰ مہارت یافتہ ٹیکنالوجی پروفیشنلزکوبھرتی کیاجارہاہے۔

سعودی کمپنیاں غیر ملکی ماہرین کو پرکشش تنخواہوں کے ساتھ ویزااسپانسرشپ  اورمراعات فراہم کررہی ہیں،حساس نوعیت کے باعث سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں پاکستانی ماہرین کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔

آئی ٹی ایکسپورٹر سعد شاہ کے مطابق کئی پاکستانی آئی ٹی اور فن ٹیک کمپنیاں سعودی عرب میں ذیلی دفاترقائم کر چکی ہیں اورعملے کووہاں منتقل کررہی ہیں،جس سے مجموعی ہجرت میں اضافہ ہورہاہے،مذہبی، ثقافتی ہم آہنگی اور بڑی پاکستانی کمیونٹی کی موجودگی کے باعث سعودی عرب پاکستانی پروفیشنلزکیلیے پسندیدہ منزل بن چکاہے۔

ادھروزارتِ اوورسیز پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی آئندہ چند برسوں میں سعودی عرب میں پاکستانی کارکنوں کی تعداددس لاکھ تک پہنچانے کیلیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔

ماہر تعلیم ڈاکٹر نعمان سعیدنے زوردیاکہ پاکستان کوتعلیمی نظام کوعالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالناہوگا،خصوصی آئی ٹی جامعات اور صنعت و تعلیمی اداروں کے مابین تعاون ناگزیر ہے۔

مقبول خبریں