وقت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ماضی میں ہم بارہا کھڑے ہو چکے ہیں۔ یہ کوئی نیا تجربہ نہیں کیونکہ اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث ہم ہمیشہ عالمی سیاست کے دوراہوں پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ مسئلہ کبھی یہ نہیں رہا کہ راستے کتنے ہیں، اصل سوال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ کون سا راستہ ہمارے قومی مفاد، سلامتی اور مستقبل کے لیے بہتر ہے۔
بدقسمتی سے ہماری تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ ہم نے اکثر بہتر راستہ اختیار کرنے کے بجائے مشکل، پرخطر راہوں کا انتخاب کیا۔خطے کی سیاست ہو یا عالمی جنگی حالات، پاکستان کا کردار ہمیشہ فیصلہ کن رہا ہے مگر حالات نے ہمیں بارہا ایسے فیصلوں کی طرف دھکیلا جن کی قیمت ہمیں دہائیوں تک چکانا پڑی۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہم امریکی بلاک کا حصہ بن گئے۔
اس کی بنیادی وجہ بھارت کا سوویت یونین کے قریب جانا تھا مگر اس فیصلے نے ہماری خارجہ پالیسی کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جہاں خطرے زیادہ اور فوائد کم تھے ۔سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے وقت ہم امریکا، نیٹو اور عرب ممالک کے ساتھ پوری قوت سے کھڑے ہوئے اور جب ایک دہائی بعد خود امریکا نے افغانستان پر چڑھائی کی تو ہم نے ایک بار پھر اسی صف میں کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔ اس بحث میں الجھنا اب شاید غیر ضروری ہے کہ یہ فیصلے درست تھے یا غلط مگر تاریخ کا ایک سچ آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے ، جب بھی ہم نے اتحادیوں کا ساتھ دیا، ہم اس کی تپش سے محفوظ نہ رہ سکے۔ دہشت گردی کے شعلے آج بھی ہمارے سماج، معیشت اور امن کو جھلسا رہے ہیں۔ اگرچہ بدامنی میں کسی حد تک کمی ضرور آئی ہے مگر یہ کمی اس قیمت پر حاصل ہوئی ہے جس کا اندازہ شاید آنے والی نسلیں بہتر طور پر کر سکیں گی۔
اب امریکا کی ایران کے خلاف ممکنہ جارحیت کے تناظر میں ایک بار پھر وہی خدشات سر اٹھا رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھے گی یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اگر یہ تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو پاکستان کہاں کھڑا ہو گا؟ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال پاکستان کو ایک بار پھر ایک ایسے دوراہے پر لے آئی ہے جہاں ہر راستہ خطرات سے بھرا دکھائی دیتا ہے۔افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ایک نئی جنگ کے سائے پاکستان کی دوسری سرحد پر منڈلانے لگے ہیں۔ عراق کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں جھوٹے الزامات، غلط معلومات اور بعد ازاں معذرت کے باوجود تباہی کے اثرات آج تک ختم نہیں ہو سکے۔ افغانستان میں امریکا نے بے پناہ جانی اور مالی نقصان اٹھایا مگر اس کے باوجود کابل کے محدود حصے کے سوا کہیں پائیدار نظام قائم نہ کر سکا۔ باقی ملک طویل عرصے تک بے یقینی اور بدامنی کی تصویر بنا رہا۔
امریکا کے صدر ٹرمپ جنگیں رکوانے کے دعوے کرتے ہیں اور پاکستان کو دوست بھی کہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی دوستی ہمیشہ مفادات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ امریکا وہ طاقت ہے جو سات سمندر پار بیٹھ کر بھی کسی ملک میں مداخلت کر سکتی ہے کیونکہ وہ کسی ایسی قوت کو برداشت نہیں کرتا جو اس کے عالمی منصوبوں میں رکاوٹ بنے۔ایران کے خلاف حالیہ امریکی جارحیت اسی سوچ کا عملی مظاہرہ ہے۔ جوہری توانائی کا حصول کسی بھی خودمختار ریاست کا حق ہے مگر یہ حق اگر کسی مسلمان ملک کو حاصل ہو تو وہ امریکا کی نظر میں ناقابلِ قبول بن جاتا ہے۔ ایران کے بعد اگر کسی ملک پر نظریں اٹھ سکتی ہیں تو وہ پاکستان ہے کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ۔ بہانے ہمیشہ تلاش کر لیے جاتے ہیں مگر ایک مسلمان ملک کی ایٹمی صلاحیت بہرحال قابلِ برداشت نہیں سمجھی جاتی۔
امریکا نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کی تعریف بھی اپنے مفاد کے مطابق ترتیب دی ہے۔ جاپان پر ایٹم بم گرانا دہشت گردی نہیںلیکن کوئی مظلوم اگر بندوق اٹھا لے تو وہ دہشت گرد قرار پاتا ہے۔ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی بھی امریکا کی طویل المدت منصوبہ بندی کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ ایران کے پاس تیل ہے۔ ہماری شمال مغربی سرحد پہلے ہی غیر محفوظ ہے اور اب دوسری سرحد پر بھی نئے امتحان کی تیاری کی جا رہی ہے۔
پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ امریکا کی دوستی بھی آسان نہیں اور دشمنی مول لینے کی سکت بھی ہمارے پاس نہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ جذبات کے بجائے عقل، وقتی مفاد کے بجائے قومی مفاد اور دباؤ کے بجائے تدبر کو بنیاد بنایا جائے۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ غلط راستے کا انتخاب صرف راستہ نہیں بدلتا، پوری قوم کی تقدیر بدل دیتا ہے۔