قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اسپیکر نے قانون سازی کا عمل شروع کر دیا جب کہ اپوزیشن رکن اقبال آفریدی مسلسل کورم پورا نہ ہونے کے حوالے آواز اٹھاتے رہے۔
اسپیکر نے کہا کہ ایک بار کورم کی نشاندہی ہوچکی اور گنتی بھی ہوچکی ہے، اسپیکر کی طرف سے اقبال آفریدی کو مائیک پر کورم کی نشاندہی کرنے کی اجازت دینے سے گریز کیا گیا۔
جے یو آئی بھی قانون سازی کی مخالفت کر رہی ہے۔ ایوان میں اس وقت 66 ارکان موجود ہیں، جبکہ کورم کے لیے 86 ارکان کی موجودگی ضروری ہے۔ اپوزیشن رکن اقبال آفریدی احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
قانون سازی کے دوران بغیر کورم صرف 8 منٹ میں 6 قوانین منظور کیے گئے، جن میں نیا پاکستان ہاؤسنگ و ڈویلپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2026، وفاقی دار الحکومت اسلام آباد بزرگ شہری ترمیمی بل 2025، پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025، بھنگ کنٹرول و انضباطی اتھارٹی ترمیمی بل، نام اور نشانات پاکستان غیر مجاز استعمال کی ممانعت بل 2026، اور قومی محافظ خانہ دستاویزات ترمیمی بل 2026 شامل ہیں۔ یہ بل وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے پیش کیے۔