ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بریفنگ میں بتایا کہ ازبکستان کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا۔ ازبکستان کے صدر کو وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی۔ پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تجارت کو 2 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا جبکہ ترجیحی تجارتی معاہدے کو مزید وسیع کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق قازقستان کے صدر نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور وزیر اعظم و صدر مملکت سے ملاقاتیں کیں۔ سیکیورٹی اور دفاعی امور پر گفتگو ہوئی اور جائنٹ ملٹری ایکسرسائز پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی حجم کو 1 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے آذربائیجان کے اکنامک منسٹر سے رابطہ کیا جبکہ ایران کے وزیر خارجہ سے اسحاق ڈار کی دو مرتبہ گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قانونی ٹیم نے ہیگ میں عالمی ثالثی عدالت کی سماعت میں شرکت کی۔ بھارت کو عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت شرکت کی دعوت دی تھی اور بھارت اس سماعت میں شرکت کا پابند تھا۔ پاکستان نے تجدید کی کہ فریقین پر سندھ طاس معاہدے کی پابندی ضروری ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے، گزشتہ برس ایسے واقعات میں 55 مسلمان جانوں سے گئے۔ دیکھا گیا ہے کہ ایسے واقعات میں مقامی انتظامیہ بھی منہ اور آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ ہم بھارتی حکومت سے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی 1267 پابندیاں کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ڈی فیکٹو افغان انتظامیہ کی پشت پناہی سے ٹی ٹی پی پاکستان میں آزادانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ شمالی افغانستان میں آئی ایس کے پی کے فعال ہونے کا بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کی آزادانہ نقل و حرکت اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ قتنۃ الہند، قتنۃ الخوارج اور بی ایل اے کے درمیان تعاون کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف واشنگٹن میں غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ ہم نے خلوص نیت سے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعظم کے دورہ واشنگٹن کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ دورہ میونخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ ہم نے بھارت کے ساتھ 90 گھنٹے کی جنگ میں امریکہ کے امن کردار کی تعریف کی۔ ہم نے بھارتی جنگی طیارے گرائے اور اس کی تصدیق ان طیاروں کو بنانے والی کمپنیوں نے بھی کی۔ مستقبل میں بھارتی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔ اسلام آباد دھماکے پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں زیادہ زور توجیہات پر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کا عالمی سطح پر تسلیم شدہ نقشہ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔
کرکٹ کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ کرکٹ میں سیاست ملوث کرنا افسوسناک ہے۔ ہم نے بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کا فیصلہ کھیل کو ہتھیار نہ بننے دینے کے لیے کیا تھا جبکہ بھارت کرکٹ کو بنگلہ دیش کے خلاف ہتھیار بنانا چاہ رہا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے قرض رول اوور کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ اسحاق ڈار کی مثبت کوششوں سے قرض رول اوور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع کا بیان تفصیلی ہے، سفارت کاری جھڑپوں اور جنگ میں بھی جاری رہتی ہے۔ ہم افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہیں چاہتے۔
افغانستان کو تسلیم کرنے سے متعلق ایران کے فیصلے کے بارے میں علم نہیں تاہم یہ ہر ملک کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ ان کا اپنا ہے، ہم اس پر تبصرہ نہیں کرتے۔