سوشل میڈیا پر ان دنوں ایسی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہورہی ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ حقیقی فلمی مناظر ہیں یا مصنوعی ذہانت کا شاہکار۔
’سیڈانس 2.0‘ (Seedance 2.0) نامی اے آئی ٹول کے ذریعے صارفین مکمل فلمی اور اشتہاری ٹریلرز تیار کر رہے ہیں جو معیار اور پیشکش کے اعتبار سے کسی بڑے پروڈکشن ہاؤس کی تخلیق محسوس ہوتے ہیں۔
ان اے آئی جنریٹڈ ٹریلرز میں نہ صرف سنیما جیسی ویژول کوالٹی نظر آتی ہے بلکہ کیمرہ اینگلز، بیک گراؤنڈ میوزک، وائس اوور، مکالمے اور حتیٰ کہ اداکاروں کے تاثرات بھی انتہائی حقیقت کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی ویڈیوز میں مشہور فلموں کے فرضی سیکوئلز یا خیالی کاسٹنگ کے ساتھ ایسے ٹریلرز بنائے گئے ہیں جو دیکھنے والوں کو حیران کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل کریئیٹرز کا کہنا ہے کہ Seedance 2.0 نے ویڈیو پروڈکشن کے عمل کو یکسر بدل دیا ہے۔ جہاں پہلے ایک مختصر ٹریلر بنانے کے لیے بڑی ٹیم، کیمرہ ورک، لوکیشن اور بجٹ درکار ہوتا تھا، وہیں اب چند تحریری ہدایات (پرومپٹس) کے ذریعے چند منٹوں میں مکمل ٹریلر تیار کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلمی اور اشتہاری صنعت میں اسے ایک ممکنہ انقلاب قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اشتہارات، میوزک ویڈیوز، شارٹ فلمز اور سوشل میڈیا کیمپینز کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ کئی برانڈز پہلے ہی اے آئی کے ذریعے کانسیپٹ ٹریلرز اور پروموشنل ویڈیوز تیار کر کے مارکیٹنگ کے نئے تجربات کر رہے ہیں۔
تاہم اس تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی نے چند سوالات بھی جنم دیے ہیں، خصوصاً کاپی رائٹ، ڈیپ فیک اور فنکاروں کے روزگار کے حوالے سے۔ کچھ حلقے اسے تخلیقی آزادی کا نیا دور قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے روایتی فلم سازی کے لیے چیلنج سمجھتے ہیں۔
بہرحال، اے آئی ٹریلرز نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض تحریر یا تصاویر تک محدود نہیں رہی بلکہ فلمی دنیا کے دروازے بھی اس کے لیے کھل چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ رجحان محض سوشل میڈیا کا ٹرینڈ ثابت ہوتا ہے یا واقعی فلم اور اشتہاری صنعت کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔