کراچی:
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی کے حقوق کے لیے پورے پاکستان میں احتجاج کیا جائے گا اور اتوار کو کراچی کے 10 مختلف مقامات پر احتجاج کریں گے۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ادارہ نور حق کراچی میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ پوری دنیا کے سامنے پاکستان پیپلز پارٹی کا جبر سب کے سامنے آگیا ہے، پرامن مظاہرین پر حملہ کیا گیا، ہزاروں شیل نہتے لوگوں پر فائر کیے گئے، مسجد پر بھی شیلنگ کی گئی، ایک جگہ آگ بھی لگی۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچے بھی زہریلی گیس سے متاثر ہوئے، آنسو گیس شیل زائد المیعاد تھے، بزرگوں نے بھی آج جوانوں کا مظاہرہ کیا، عوام نکلیں گے تو مسائل حل ہوں گے اور قابض سسٹم کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو پورے پاکستان میں احتجاج کیا جائے گا، کراچی کے لوگ تنہا نہیں ہیں، حکومت سندھ نے ہزاروں ارب روپے ہڑپ کرلیے ہیں، لوگ ٹینکروں کے نیچے آکر مر رہے ہیں، یہ گل پلازہ کی آگ بھی نہیں بجھا سکے، سڑکیں ٹوٹی ہیں، بچے گٹر میں گر رہے ہیں، یہ مافیا ہے، جو پرامن مظاہروں کو بھی کچلتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ریڈ لائن اور کریم آباد انڈر پاس کے معاملے پر ان کی نااہلی سب کے سامنے ہے، کراچی بدترین صورت حال کے باوجود سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، اس شہر کے لوگوں کو پرسکون زندگی میسر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو نہ پانی دیا جا رہا ہے نہ بنیادی سہولتیں دی جا رہی ہیں، یہ میئر شپ پر بھی قابض ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اتوار کو یوم احتجاج منایا جائے گا، یہ لسانی فسادات کے بھی ذمہ دار ہیں، نوجوان تشدد سے گریز کریں، احتجاج پرامن ہونا چاہیے، پولیس بھی عوام پر شیلنگ سے گریز کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اپنی اپنی حکمت عملی مرتب کریں اور شہر کے 10 مقامات پر احتجاج کریں، کل پورے پاکستان میں کراچی کے حقوق کے لیے احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ چار گھنٹے شیلنگ کی گئی، شاہراہ فیصل پر احتجاج کیا تھا مگر ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا، پیپلز پارٹی شیخ حسینہ واجد سے سبق حاصل کرے، پیپلز پارٹی کو ایئر لفٹ بھی نہیں ملے گی۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ رکن اسمبلی محمد فاروق اور 50 سے زائد کارکنوں کو رہا کیا جائے، احتجاج اپنی جگہ، میچ وہاں بھی ہو رہا ہے اور یہاں بھی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی ڈاکا ڈالے اور چوری کرے اور ہم احتجاج بھی نہ کریں، کارکنان کو رہا کیا جائے پھر ہی حکومت سے بات ہوگی، احتجاج کے حق سے کوئی بھی ہمیں محروم نہیں کرسکتا۔