ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا پابندیاں اٹھانے پر بات چیت کے لیے تیار ہو تو ایران جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے بعض سمجھوتوں پر غور کر سکتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر بعض پابندیاں قبول کرنے کے بدلے اقتصادی پابندیاں ختم کروانا چاہتا ہے، تاہم میزائل پروگرام یا دیگر معاملات کو جوہری مذاکرات سے جوڑنے کی مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں ہوگا۔ اس سے قبل عمان میں دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ بات چیت ہوئی تھی جس میں عمانی حکام نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ابتدائی مذاکرات مثبت سمت میں گئے ہیں، لیکن حتمی نتیجے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران انتہائی افزودہ یورینیم کو کم سطح تک لانے پر آمادہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تمام مالی پابندیاں ختم کی جائیں۔
امریکا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی محدود کرے، جبکہ تہران مکمل طور پر افزودگی روکنے کا مطالبہ مسترد کرتا آیا ہے اور جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کی تردید کرتا ہے۔
یاد رہے کہ 2015 کا جوہری معاہدہ، جسے باراک اوباما کی خارجہ پالیسی کی اہم کامیابی سمجھا جاتا تھا، اسے صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکا کو الگ کر لیا تھا۔
اس معاہدے کو Joint Comprehensive Plan of Action (JCPOA) کہا جاتا ہے، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی حاصل کی تھی۔