تائیوان کے دارالحکومت تائی پے کے ژونگ شان ڈسٹرکٹ میں ایک 102 سالہ کروڑ پتی شخص کی خفیہ شادی نے اسپتال میں ایک سنگین جھگڑے کو جنم دے دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امیر تاجر اپنی 68 سالہ اہلیہ کے ساتھ اسپتال سے باہر آ رہے تھے۔
اتفاق سے عین اسی وقت 102 سالہ بزنس مین کے بیٹے، بہوئیں اور پوتے پوتیاں وہاں پہنچ گئے اور اس نئے انکشاف پر آگ بگولہ ہوگئے۔
بزرگ تاجر کی نئی اہلیہ کوئی اور نہیں بلکہ ان کی نگہداشت کرنے والی ایک خاتون تھیں جنھیں ان کے بچوں نے ہی خدمت کے لیے رکھا تھا۔
اپنے باپ کے ساتھ دیکھ بھال کرنے والی خاتون کو بطور ان کی اہلیہ دیکھ کر بیٹے طیش میں آگئے اور اسپتال کے دروازے پر ہی جھگڑا شروع ہوگیا۔
بیٹوں نے اپنے باپ کی مبینہ بیوی کو ایک طرف دھکیل کر ان سے والد کی وہیل چیئر چھین لی اور اپنے ساتھ گھر لے جانے لگے۔
خاتون نے چیخ چیخ کر پورے اسپتال کو آسمان پر اُٹھالیا اور جب کچھ نہ بن پڑا تو پولیس کو فون کرکے بلالیا۔
اس دوران خاتون کی اپنے شوہر کے خاندان والوں سے ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ لوگوں نے بیچ بچاؤ کی کوششیں کیں لیکن سب ناکام ثابت ہوئیں۔
اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ ہمارے والد کی دماغی حالت کا فائدہ اُٹھاکر اس خاتون نے جسے ان کی دیکھ بھال کے لیے رکھا تھا۔ لالچ میں خفیہ شادی کی۔
بیٹوں نے بتایا کہ خفیہ شادی کے بعد والد سے 7 پلاٹسِ اور تقریباً 19 لاکھ پاؤنڈ کی انشورنس پالیسی خاتون اور ان کے بچوں کے نام منتقل کی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ان کاتون نے یوں مجموعی طور پر تقریباً 47 لاکھ پاؤنڈ کے اثاثے اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کیئے۔
خیال رہے کہ بزرگ تاجر کے کل اثاثوں کی مالیت 1 کروڑ 60 لاکھ سے 1 کروڑ 87 لاکھ پاؤنڈ کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔
تائیوان میں شادی رجسٹریشن کرنے والے حکام نے بتایا کہ شادی کے اندراج کے وقت بزرگ نے سوالات کے درست جواب دیے اور قانونی تقاضے پورے کیے۔
البتہ بھانڈا پھوٹ جانے اور بچوں کے مقدمہ کرنے کے بعد اب شادی کی قانونی حیثیت اور اثاثوں کی منتقلی کا فیصلہ عدالت کرے گی۔