گل پلازہ جوڈیشل کمیشن نے سی ای او واٹر کارپوریشن، ڈی جی ایس بی سی اے، میڈیکل لیگل آفیسر اور مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا سمیت دیگر کو سوالنامے دیتے ہوئے جوابات اور اہم ریکارڈ طلب کرلیے۔
سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن اجلاس شروع ہوا تو صدر گل پلازہ ایسوسی ایشن تنویر پاستا کمیشن اجلاس میں غیر حاضر تھے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر کہاں ہیں؟ باہر آواز لگوائیں تنویر پاستا کے لئے، انکے نوٹس نکلوائیں۔
کمیشن نے سینیئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی سید عدنان حیدر زیدی کو روسٹرم پر بلایا اور پلاٹ کی قانونی حیثیت سمیت لیز سے متعلق سوالات کیے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ گل پلازہ کے اطراف روڈ نیٹ ورک آپ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے؟ عدنان حیدر نے کہا کہ ہم صرف پلاٹ کی لیز دیتے ہیں۔ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ روڈ پر تجاوزات بھی آپ کا معاملہ نہیں؟ گل پلازہ کا ٹائٹل کیا ہے؟۔
سینئر ڈائریکٹر لینڈ نے کہا کہ 1884 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو میونسلپٹی نے 99 سالہ لیز پر دی تھی۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ ان کو زمین کیسے دی؟ کیا کسی قانون کے تحت زمین ملی تھی؟رجسٹر میں انٹری سے کیا ملکیت ہوجاتی ہے۔ زمین گرانٹ کی گئی تھی، کس نے لیز ایشو کی تھی؟ ہماری رائے میں لیز سرکاری ادارہ یا قانون دیتا ہے۔ کوئی انفرادی شخص یا ممبر لیز نہیں دے سکتا۔
سینیئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی سید عدنان حیدر زیدی کمیشن کو مطمئن نہ کرسکے۔ کمیشن کے سربراہ نے پوچھا آپ کس کو رپورٹ کرتے ہیں؟ عدنان حیدر نے کہا کہ میونسپل کمشنر کو رپورٹ کرتے ہیں۔
کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ نوٹس نکالئے سینیر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی معاونت نہیں کرسکتے۔ میونسپل کمشنر کو آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے۔
گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا کمیشن اجلاس میں پہنچے جس پر انہیں کمیشن نے روسٹر پر طلب کرلیا۔ کمیشن نے پوچھا کہ گل پلازہ بند ہونے کا وقت کیا ہے؟۔
تنویر پاستا نے بتایا کہ مارکیٹ عام دنوں میں ساڑھے 10 سے پونے 11 جبکہ ہفتے کو ساڑھے 10 سے 11 بجے بند ہوتی تھی۔
کمیشن نے سوال کیا کہ آفیشل وقت کیا ہے؟ تنویر پاستہ نے کہا کہ ہمیں کسی نے مقررہ وقت پر بند کرنے کا پابند نہیں کیا تھا۔
کمیشن نے پوچھا کہ دروازے کیا ایک ایک کرکے بند کرتے تھے؟ صدر نے بتایا کہ گیٹ نمبر ون سے ساڑھے 10 بجے دروازے بند کرنا شروع کرتے تھے اور 20 سے 25 منٹ میں دروازے بند کرنے کا عمل مکمل ہوتا تھا۔
انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ ہفتے کو 10 پینتالیس پر دروازے بند کرنا شروع کرتے ہیں۔، ریمپ ساڑھے 11 بجے بند ہوتا ہے۔
کمیشن پوچھا کہ سی سی ٹی وی ریکارڈ موجود ہے؟ اس پر تنویر پاستا نے کہا کہ عمارت گرنے اور ملبے سے کچھ ڈی وی آر ملے تھے، دو جگہ ڈی وی آر ریکارڈ ہوتے تھے،بیسمنٹ میں سیکیورٹی روم سے ڈی وی آر لگے تھے، دو ماہ پہلے سی سی ٹی وی سسٹم اپگریڈ کیا گیا تھا جس کے بعد 280 سی سی ٹی وی کیمرے لگے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مرکزی راہداری چھ سے آٹھ فٹ کی تھی، میزا نائن ہر دس فٹ کی راہداری ہیں۔ کمیشن نے پوچھا کہ اپروو پلان کے مطابق کتنی دکانیں ہیں؟ تنویر پاستا نے بتایا کہ میں نے عمارت نہیں بنائی، حادثے کے وقت 1153 تمام دکانیں لیز تھیں۔ 2003 میں بیسمنٹ سے پارکنگ ختم کرنے چھت پر پارکنگ بنائی گئی۔
ایس بی سی اے حکام نے کہا کہ مزید منزل نہیں بنا سکتے اسی کو توسیع کیا جاسکتا ہے۔ سب لیز کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہے۔
مارکیٹ صدر نے بتایا کہ ہر دکان سے 15 سو روپے مینٹیننس وصول کی جاتی ہے۔ ہم نے دکان مالکان کو کہا تھا کہ کرائے معاہدے ہمارے ذریعے کیا جائے۔ کمیشن نے پوچھا کہ منیجمنٹ کا کیا کردار تھا پھر؟ صدر نے جواب میں کہا کہ ہم مینٹیننس وصولی اور کام کرنا، صفائی، سی سی ٹی وی اور چوکیدار منیج کرتے تھے۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کتنے چوکیدار ہیں؟ صدر نے کہا کہ جب آگ لگی تب 6 چوکیدار تھے۔ 2005 میں آخری لیز بیسمبٹ کی ہوئی تھی۔ آگ بجھانے والے سو سلینڈر اور 65 بال تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ پہلے ہی سلینڈر دوبارہ بھروائے گئے تھے۔ تمام ریکارڈ دفتر میں ہوتا تھا جو جل چکا ہے۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ کی تنظیم رجسٹرڈ ہے؟ تنویر پاستا نے کہا کہ رجسٹرڈ تنظیم نہیں ہے۔
کمیشن نے سوال کیا کہ اگر آپ درمیان میں ہیں تو باہر نکلنے میں کتنا وقت لگے گا؟ صدر نے جواب دیا کہ باہر نکلنے اور دیگر منزلوں ہر جانے کے متعدد راستے تھے۔
کمیشن نے پوچھا کہ منیجمنٹ کے کتنے لوگ اندر تھے؟ صدر نے بتایا کہ 40 رضا کار تھے جن میں سے 5 شہید ہوئے۔
کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کب سے صدر ہیں؟ تنویر پاستا نے کہا کہ 2024 میں صدر ہوں۔ کمیشن نے پوچھا پہلے بھی آپ کہیں کمیٹی میں رہے ہیں؟ صدر نے کہا کہ آر جے مال میں بلڈر کے ساتھ تھا، کمیٹی میں نہیں تھا۔
تنویر پاستا نے کہا کہ آگ لگنے کے بعد 95 فیصد لوگ نکل گئے تھے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آپ نے تمام سیل ڈیڈ کراچی چیمبر کو فراہم کیے ہیں؟ کیا آپ وہ ہمیں فراہم کرسکتے ہیں؟ ہمیں ٹائٹل دیکھنے ہیں۔
تنویر پاستا نے کہا کہ دوبارہ عمارت بنتی ہے تو انکو وہی دکانیں دوبارہ ملیں گی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ کون بنا کر دے رہا ہے؟ صدر نے کہا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے دوبارہ بنانے کا۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ یہ نجی پراپرٹی ہے لیکن سرکار آپ کو دوبارہ بنا کردے گی؟ آپ سوالنامہ جمع کروائیں۔
کمیشن نے گل پلازہ مینجمنٹ اور تنویر پاستا سے 72 سوالات کے جوابات مانگ لیے۔
ایسوسی ایشن سے 72 سوالات کے جوابات طلب
سب سے پہلے آگ کہاں لگی؟ کس نے آگ کی نشاندہی کی؟ کیا فوری اقدامات کیے؟ کیا آگ بھجانے والے آلات استعمال کیے گیے کیا آلات فعال تھے؟ مارکیٹ کھولنے اور بند ہونے کے اوقات کار کتنے ہیں منظور شدہ؟
سوال پوچھا گیا ہے کہ حادثے کے وقت کتنے لوگ تھے اندر؟ اور وہ کیوں اندر تھے؟ کیا لوگوں کو باہر نکلنے کے لیے کوئی اعلانات کیے گئے تھے؟ کیا سانحہ کے وقت دروازے فوری کھولے گیے تھے؟ ہر فلور پر کتنے راستے ہیں باہر آنے؟ اور کتنے استعمال میں نہیں ہیں؟کیا دروازے بند یا لاک تھے سانحہ کے وقت؟
کمیشن نے سوال پوچھا ہے کہ کون دروازے کھولتا اور بند کرتا ہے؟ کیا سیکورٹی اسٹاف لوگوں کو باہر نکالنے کے لیے موجود تھا؟ کیا اسٹاف کو آگ بجھانے کی کوئی تربیت فراہم کی گئیں تھا؟ آفیشل ریکارڈ کے مطابق گل پلازہ میں کتنی دوکانیں ہیں؟ اور سانحہ کے وقت کتنی کھلی تھیں؟ کیا گل پلازہ مینجمنٹ کو اندر پھنسے لوگوں کے کالز موصول ہوئی تھیں؟
کمیشن نے گل پلازہ مینجمنٹ سے متعلق تمام دستاویزات اور معلومات طلب کرلیں۔
سی ای او واٹرکارپویشن کا کمیشن کو بیان
سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی نے کمیشن کے روبرو بیان میں کہا کہ ہمیں واٹس ایپ پر سینیئر فائر افسر کا پیغام موصول ہوا۔ ایس او پی بھی یہی ہے۔ تمام ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کا قریبی ہائیڈرنٹ 14 کلومیٹر دور ہے، ہماری پہلی گاڑی 10 بجکر 56 منٹ پر پہنچی اور پانی کی سپلائی بغیرکسی رکاوٹ کے جاری رہی۔ ہیڈ کوارٹر، صدر، لیاری، ناظم آباد ہائیڈرینٹ موجود ہیں۔
کمیشن نے پوچھا کہ پہلے تین گھنٹے کیلئے کتنا پانی سپلائی کا کیا گیا۔ جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیئے کہ فائر اسٹیشنز کو پاس واٹر کارپوریشن کی لائن ہونی چاہیے۔
احمد علی صدیقی نے کہا کہ 15 فائر ہائیڈرنٹس موجود ہیں جہاں سے فائر ٹینڈرز کو روزانہ چھ گھنٹے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ فائر بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں ایک ملین گیلن یومیہ کا ٹینک موجود ہے۔
کمیشن کے سربراہ نے پوچھا کہ گل پلازہ میں پہلے دو گھنٹوں میں کتنا پانی استعمال ہوا ہوگا؟ احمد علی صدیقی نے کہا کہ 20 ہزار گیلن پانی ایک گھنٹے میں استعمال ہوتا ہے تو 40 ہزار گیلن استعمال ہوا ہوگا۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ اگلے بارہ گھنٹوں میں آپ کی ضرورت تو نہیں ہی پیش آئی ہوگی۔ 24 گھنٹوں میں بھی فائر بریگیڈ کے پاس پانی کی کمی نہیں ہونی چاہیے تھی۔؟
واٹر کارپویشن سے پوچھے گئے سوالات
انکوائری کمیشن نے سی ای او واٹر کارپوریشن سے 12 سوالات کے جوابات اور 7 اہم دستاویزات طلب کرلیں۔
سوالات میں پوچھا گیا ہے کہ گل پلازہ کہ ارد گرد فائر ہائیڈرنٹس سپلائی اور کتنے گل پلازہ کے قریب مینٹین ہیں؟ کیا ہائیڈرنٹس فعال تھے اور سانحہ کے وقت پانی کا پریشر کتنا تھا؟ کیا فائر فائٹنگ کے وقت پانی سپلائی جاری تھی؟ کیا پانی کو پریشر کم ہوا؟ کیا کہیں پانی کی فراہمی بند ؟ پانی کا پریشر کم ہونے سے آپریشن متاثرہ ہوا؟ کیا واٹر بورڈ ہائیڈرنٹس کی انسپیکشن کرتا ہے؟ کیا ہائیڈرنٹس کا ریکارڈ مینٹین کیا جاتا ہے؟ کیا سانحہ کے وقت پانی کی کمی کی کوئی شکایت ملی تھی؟ کیا فائر فائٹنگ کے وقت پانی کا پریشر برقرار رہا؟ کیا سانحہ کے وقت ایمرجنسی نافذ کرنے کی درخواست موصول ہوئی؟ کیا پانی کی فراہمی واٹر بورڈ کی زمہ داری تھی کہ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے؟ گل پلازہ کے قریب ہائیڈرنٹ کا نقشہ پیش کیا جائے؟ ہائیڈرنٹ فعال اور پریشر ریکارڈ فراہم کیا جائے، کتنا پانی فراہم کیا گیا سانحہ کے وقت؟ پانی کی عدم فراہمی علم لائی گئی تھی؟ ہائیڈرنٹ کیسے چلائے جارہے ہیں ایس او پیز پیش کی جائیں۔
پولیس سرجن
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو بتایا کہ ابتدائی طور پر 8 زخمی اسپتال لائے گئے۔ جنہیں برنس سینٹر میں علاج کے بعد ڈسچارج کردیا گیا۔ پھر اتوار کی صبح 6 قابل شناخت باڈیز لائی گئیں۔ اگلے 5، 6 روز تک باقیات لائی جاتی رہیں۔ 19 کو 15 باقیات اسپتال لائے گئے۔ 20 تاریخ کو 9، 21 تاریخ کو 22، 22 تاریخ کو 15، 23 تاریخ کو 4، 25 تاریخ کو 10 باقیات لائی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی 2 روز تک لائے جانے والے لاشیں بعد سے بہتر تھیں۔ بعد میں ٹکڑوں میں ہڈیاں لائی گئیں۔ ایک ایک پیکٹ میں 5 افراد کی باقیات لائی جارہی تھیں، 25 کو 73 باقیات پہنچیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے ڈی این اے طلب کئے۔
انہوں نے بتایا کہ 57 افراد نے خون کے نمونے دیئے ڈی این اے کے لئے 72 باڈیز کے لئے۔ جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیئے کہ ابتدائی شناخت کے بعد 66 ناقابل شناخت باڈیز باقی بچیں۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب ہے 73 سے زائد ہلاکتیں ہوسکتی ہیں؟ پولیس سرجن نے کہا کہ 20 ڈی این اے سے شناخت ہوئی۔ دیگر باقیات سے ڈی این اے سیمپل نہیں مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ 1400-1600 درجہ حرارت میں 4 سے 5 گھنٹوں میں ڈی این اے ختم ہوجاتا ہے، یہاں 36 گھنٹوں تک آگ لگی ہوئی تھی۔ مقام پر موجودگی کی بنیاد پر بھی شناخت کی جاسکتی ہے۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ وجہ اموات کیا تھی۔ پولیس سرجن نے کہا کہ دم گھٹنا اموات کی وجہ بنا۔ کمیشن کے سربراہ نے پوچھا کہ ایسی آگ میں کوئی بھی شخص کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟
ڈاکٹر سمیہ نے کہا کہ صحت مند شخص ہو تو وہ بہت زیادہ پانچ منٹ تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اگر گیلا کپڑا منہ پر رکھ لیا جائے تو یہ وقت بڑھ سکتا ہے۔ 30 منٹ تک کا ونڈو دیا جاسکتا ہے۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ یعنی کہہ سکتے ہیں کہ گیارہ بجے کے آس پاس سب ختم ہوچکا تھا؟ پولیس، سی پی ایل سی کا کردار قابل تعریف رہا۔
کمیشن نے پوچھا کہ اب تک کتنی شناخت ہوچکی ہیں؟ پولیس سرجن نے کہا کہ موبائل فون کی آخری لوکیشن کے ذریعے 23 کی شناخت کی گئی۔ باقیات کی حوالگی باعزت انداز سے کی گئی۔
میڈیکل لیگل آفیسر کو دیا گیا سوالنامہ
کمیشن کی جانب سے میڈکو لیگل افسر سول اسپتال سے 25 سوالات پر مشتمل سوالنامہ جاری کردیا۔
سانحہ میں جاں بحق کتنے افراد سول اسپتال لائے گیے؟ کتنے زخمی لائے گیے؟ لوگوں کی جان ہونے کی ابتدائی وجوہات کیا تھیں؟ کیا مرنے کی وجہ سے دھوئیں کا بھرجانا، یہ سوفوکیشن تھی؟ کیا جاں بحق افراد کے پھیپھڑوں میں دھواں بھرا تھا؟
سوال پوچھا گیا ہے کہ لوگوں کے مرنے کی وجوہات کیا تھیں ؟ کیا لوگوں کے ہلاک ہونے وجہ سے تاخیر سے باہر نکالنا تھا؟ کیا کوئی زہریلا مواد تو نہیں پایا گیا؟ کمیشن نے میڈکو لیگل افسر سے میڈکو لیگل رپورٹس طلب کرلیں؟ پوسٹ مارٹم رپورٹس، کاز آف ڈیتھ سرٹیفکیٹ؟
ڈی جی ایس پی سی اے
ڈی جی ایس بی سی اے مزمل حسین نے کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ آپ کے ریکارڈ میں گل پلازہ کی کیا تفصیلات ہیں؟
مزمل حسین نے کہا کہ انور علی نے 1979 میں بلڈنگ پلان اپروو کروایا۔ 1986 میں تعمیرات کی اجازت دی گئی۔ 1983 میں لیز ختم ہو گئی تھے۔
کمیشن کے سربراہ نے پوچھا کہ جب تعمیرات شروع ہوئی تو لیز نہیں تھی؟ ڈی جی ایس بی سے اے نے کہا کہ 1991 میں پرانی تاریخ سے لیز توسیع کی گئی۔ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ اصل اجازت کس چیز کی تھی؟
ڈی جی نے کہا کہ ہمیں اصل دستاویز نہیں ملی، صرف فوٹو کاپی ہے۔ 1998 میں ریوائزڈ پلان منظور ہوا۔ 150 غیر معیاری دکانیں تعمیر کی گئیں۔ دکان کی کم از کم جگہ پر عمل نہیں کیا گیا۔ 1043 دکانیں ہوگئیں۔ 2001 ایس بی سی اے آرڈیننس آیا۔ 2003 میں ھکومتی پالیسی کے تحت ریگولیرائز کیا گیا۔ 59 مزید دکانیں ہوگئیں۔ 2005 میں سیل این او سی کے لئے درخواست دائر کی گئی۔ حقیقت میں تمام دکانیں پہلے ہی بیچی جاچکی تھیں۔ صرف بیسمنت فروخت نہیں ہوئی تھا۔ کمپلیشن پلان مکمل ہونے کے بعد ایس بی سی اے کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ 2015 میں مزید فلور کی اجازت طلب کی گئی۔ ہمارے ریکارڈ میں میزانائن فلور نہیں۔ مزید فلور کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ بیسمنٹ کے علاوہ کسی اور منزل کے لیے سیل این او سی ایس بی سی اے نے جاری نہیں کی؟ ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ بعد میں سیل این ای او جاری کی گئی۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ کیا کراچی میں کسی بھی عمارت میں بیسمنٹ میں دکانیں بنائی جاسکتی ہیں؟ مزمل حسین نے کہا کہ 1998 کے پلان میں بیسمنٹ میں دکانیں موجود تھیں۔
کمیشن نے پوچھا کہ ایس بی سی اے کے پاس خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی گئی؟ ڈی جی نے کہا کہ کمپلیشن کے بعد ایس بی سی اے کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد ایک برس تک بلڈر ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسکے بعد منیجمنٹ کمیٹی ذمہ دار ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کمیٹیاں رجسٹرڈ نہیں ہوتی ہیں، اگر شکایت ہوتی ہے تو کارروائی کرتے ہیں۔ اگر زائد فلور بنائے جائیں تو توڑ دیتے ہیں۔ عمارت مکمل ہونے کے بعد ہم سروے نہیں کرسکتے۔ ہم نے بطور پہلی منزل این او سی جاری کی۔ ہمارے پاس میزا نائن فلور کی ٹرم استعمال نہیں کی جاتی۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ اضافی منزل بننے کے بعد کیا شکایت کا انتظار کیا جاتا ہے؟ ڈی جی نے کہا کہ بلڈنگ انسپکٹر یا شکایت کی صورت میں کارروائی کی جاتی ہے۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ اگر زائد دکانیں بنائی جائیں تو کیا آپ کا دائرہ اختیار ہے؟ ڈی جی نے کہا کہ اگر شکایت ہو تو کارروائی کرسکتے ہیں۔ کمیشن کے سربراہ نے پوچھا کہ یعنی اس کا کوئی ریگولیٹری مکینزم نہیں ہے۔ ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ سینکڑوں شکایت یومیہ موصول ہوتی ہیں۔ تعمیرات کے دوران پلان کے خلاف ورزی پر کارروائی کرتے ہیں۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ گل پلازہ کو اب تک کتنے نوٹس جاری کئے گئے؟ ڈی جی نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ رمپا پلازہ نے شکایت کی تھی کہ عمارت کے ساتھ ہی عمارت بنائی جارہی ہے۔ کے بی سی اے نے اس وقت صرف نوٹس جاری کیا۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس میں کہا کہ یقین ہے گل پلازہ صرف واحد عمارت نہیں ہوگی جہاں بے ضابطگیاں ہوئی ہوں، گل پلازہ کے بعد کیا کارروائی کی ہے؟ آپ ایکشن لے سکتے ہیں لیکن آپ نے کیا ایکشن لیا ہے؟ گل پلازہ میں 4 روز تک آگ لگی رہی کیا یہ نوٹس کافی نہیں تھا؟ اگر عمارت کے دروازے بلاک کردیئے جائیں، کھڑکیاں بند کردی جائیں پھر بھی آپ کی ذمہ داری نہیں؟
ڈی جی نے کہا کہ یہ ذمہ داری منیجمنٹ کی ہے، ہمارے ریکارڈ کے مطابق 18 دروازے تھے۔ اگر یہ 16 کہہ رہے ہیں تو اسکا مطلب ہے 2 دروازے بند تھے۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیئے کہ پوسٹ کمپلیشن پلان کا مسئلہ تو بہت سنگین ہے۔ کمپلیشن پلان کے بعد دس دکانوں کو ایک سو بنا دیا جائے، ایس بی سی اے کچھ نہیں کرسکتی؟
ڈی جی نے کہا کہ ہمارے پاس 1381 ملازمین ہیں اگر آج بھی وزت شروع کریں تو پانچ برس میں صوبہ مکمل نہیں کرسکتے۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ اگر ایک عمارت کا وزٹ اور کارروائی شروع کریں تو ایک سو عمارتوں میں غیر قانونی کام رک جائے گا۔ ڈی جی نے کہا کہ گل پلازہ میں 1102 دکانیں منظور شدہ ہیں۔ ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ اور صوبائی ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کو یکجا کردیا جائے گا۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ شہری حکومت کیا کام کرے گی؟ ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ شہری حکومت صرف ایمرجنسی کام کرے گی۔ کمیشن نے کہا کہ دیکھنا ہوگا قانونی طور ایمرجنسی سروسز کسکا رول ہے۔
ایس بی سی اے کو دیا گیا سوالنامہ
کمیشن کی جانب سے ڈی جی ایس بی سی اے کو سوالنامہ جاری کردیا۔ کمیشن نے ایس بی سی اے 47 سوالات کے جوابات مانگ لیے۔ گل پلازہ اور اصول منظور شدہ پلان کیا ہے ؟ گل پلازہ کے کتنے فلور کی اجازت تھی؟ کیا بیسمنٹ اور میزنائن فلور منظور شدہ تھے؟ کیا منظور شدہ پلان میں کسی ترمیم کی منظوری دی گئی تھی؟
کتنی دکانوں کی منظوری دی گئی تھی؟ جب آپ لگی اس وقت کتنی دوکانیں چل رہی تھیں؟ کتنے ایمرجنسی راستوں کی منظوری دی گئی تھی ؟ کہاں کہاں سے نکلنے کے راستے تھے؟ کیا کبھی ایس بی سی اے نے راستوں کا معائنہ کیا تھا؟ گل پلازہ کی آخری مرتبہ کب انسپیکشن کی گئی تھی؟کیا کوئی خلاف ورزی تھی ؟ کیا کبھی کوئی نوٹس جاری کیا گیا؟ کیا کبھی بلڈنگ کو کبھی غیر محفوظ قرار دیا گی؟ ان افسران کی نشاندہی کی جائے جنہوں نے بلڈنگ پلان کی منظوری دی ؟ اور مانیٹرنگ کی؟
کیا آگ لگنے کے بعد ایس بی سی اے نے بلڈنگ کا معائنہ کیا؟
کمیشن نے ایس بی سی اے اے گل پلازہ کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا۔ جنرل مینیجر پی آئی ڈی سی ایل شفیع محمد چاچڑ سے کمیشن کے سربراہ نے پوچھا ایم اے جناح روڈ پر تعمیراتی سائٹ ہے۔ شفیع محمد نے کہا کہ گرین لائن ایکسٹنشن پراجیٹ ہے۔ کمیشن نے پوچھا کہ کام کب شروع ہوا، اگست 2025 میں شروع ہوا؟ 6 ماہ ہو گئے کتنے برسوں کا منصوبہ ہے؟ شفیع محمد چاچڑ نے کہا کہ ایک سال کا منصوبہ ہے۔
جون جولائی میں مکمل کرنا تھا لیکن 68 دن کام رکا رہا۔ میئر کراچی نے کام رکوا دیا تھا۔ ایم اے جناح روڈ مرکزی شارع ہے۔ دن میں رش آورز نا ہونے کے باوجود بہت رش تھا۔ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ اہم شارع ایک سال کے لئے بند کردیں گے تو کیا ہوگا۔ جو حال ہے چھوٹی گاڑیاں نئیں چل سکتی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں کیسے چل سکتی ہیں؟۔
شفیع محمد چاچڑ نے کہا کہ گرین لائن منصوبے کا توسیعی کام چل رہا ہے، نمائش کے بعد ریڈ لائن، یلو لائن سب اسی میں چلے گی۔ گل پلازہ میں کسی بھی ایمرجنسی گاڑی کو آسانی ہوئی ہوگی اس کی وجہ سے۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ باہر دیکھا ہے جن کا نقصان ہوا ہوتا ہے وہ سول کورٹ میں دعوی کردیتے ہیں۔ وہ دعوی ذمہ داران کیخلاف کامیاب ثابت ہوتا ہے۔ ایم اے جناح روڈ 6 ماہ سے دو گلیاں بن کر رہ گئی ہے۔
شفیع محمد چاچڑ نے کہا کہ اس کو ایسا تو نہیں چھوڑا جاسکتا۔ فائر ٹینڈر کے لئے ہم نے رکاوٹیں ہٹائی ہیں۔ کسی ادارے نے نہیں کہا کہ گرین لائن کی وجہ سے رکاوٹ ہوئی۔ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ ابھی ہم اسنارکل لیجائیں اور ڈی سی آفس کی گلی میں موڑنے کے لئے کتنا وقت چاہیئے ہوگا؟ جواب دیا گیا کہ یریفک پولیس کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔
متبادل 3 سے 4 سڑکیں چل رہی ہیں۔ نمائش ہر ٹرمینل بنایا۔ تعمیرات ایک سال میں مکمل کرلیں گے۔ 2 ماہ کام بند نا ہوتا تو وقت سے پہلے مکمل کرلیتے۔
کمیشن نے پوچھا کہ آگ لگنے کے بعد جگہ بنائی؟ شفیع محمدچارچڑ نے کہا کہ متبادل روشنی کے انتظامات ہم نے کئے تھے۔ دیگر مشینری موجود نہیں تھی۔ جسٹس آفا فیصل نے استفسار کیا کہ آپ سے کسی نے رابطہ کیا کہ کرین استعمال کرنے دیں؟
شفیع محمد نے کہا کہ ڈی سی جنوبی نے اگلے روز رابطہ کرکے ہیوی لوڈر طلب کیا تھا وہ فراہم کردیا گیا تھا۔ جو مشینری موجود تھی وہ گل پلازہ میں استعمال نہیں ہوسکتی تھی۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی کا بیان
ڈی سی جنوبی جاوید نبی کھوسو سے جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ ایس بی سی اے کہتا ہے جب تک شکایت نا ہو کارروائی نہیں کرسکتے۔ آج ایک اور واقعہ ہوا ہے جس میں پندرہ لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ 40 سے 50 گز پر وہ عمارت بنی ہوئی تھی۔ 40 سے 50 گز پر ہائی رائز عمارت کی اجازت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمارت کی بھی کسی نے شکایت نہیں کی ہوگی۔ آگ کا لگنا بڑی بات نہیں ہوتی۔ آگ کا پھیلنے کے بہت سے محرکات ہوتے ہیں۔ ہم نے پوچھا آپریشن کمانڈ کس کے پاس تھی، بتایا گیا کوئی نہیں تھا۔ لواحقین نے کہا کہ آگ لگنے کے بعد سب دیکھ رہے تھے اور جب آگ بجھ گئی تو پوسٹ مارٹم کیے گئے۔ اب ہماری بھی یہی رائے ہے۔
ڈی سی جنوبی جاوید نبی نے کہا کہ جب آگ لگی میں قریب ہی تھا۔ سب سے پہلے جائے وقوعہ پہنچا۔ پروٹوکول کے تحت ایمرجنسی ڈپارتمنٹ سے رابطہ کیا۔ ایس ایس پی سٹی بھی فوری پہنچے۔ پہلی گاڑی پہنچتے ہی آگ پر قابو پانے کی کوشش تھی۔ 20 سے 30 منٹ میں بہت سے لوگ باہر نکالے۔
کمیشن نے پوچھا کہ کن لوگوں کی بات کررہے ہیں جو خود باہر نکلے؟ ڈی سی نے کہا کہ جو دروازے تک پہنچے انہیں ریسکیو اور منیجمنٹ نے دروازے توڑ کر باہر نکالے۔ آگ کی شدت زیادہ تھی ریسکیو اہلکار بھی اندر نہیں داخل ہوسکے۔ عمارت میں جلنے والا سامان موجود تھا جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔ 6، 7، 8 دروازے کھلے ہوئے تھے۔ بعد میں مزید بھی دروازے کھولے گئے۔ 3 سے 4 دروازے کھلے ہوئے تھے۔ کمیشن نے پوچھا کہ فلور کے درمیان دروازے یا بلاکج تھے؟
ڈی سی نے کہا کہ سیڑھیاں چھت تک جانے والی بند تھی۔ لوگ فائر فائٹرز سے لڑ رہے تھے۔ پولیس نے لوگوں کو کنٹرول کیا۔ لوگوں کا رش ہمارے لئے مشکلات کا سبب تھا۔ کمیشن نے کہا کہ 80 لوگ لاپتہ تھے ان کے اہلخانہ انکی تلاش تو کریں گے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ڈیزاسٹر میجمنٹ ایکٹ پروٹوکول کے مطابق پولیس نے ایریا محفوظ کیا۔ اسکے بعد ایمرجنسی گاڑیوں کےُلئے راستہ بنایا گیا۔ شہر میں ٹریفک کی صورتحال بھی ہوتی ہے۔ ریسکیو میں پہلے پھنسے لوگوں کو باہر نکالنے کیی کوشش ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر فرسٹ رسپانس ریسکیو 1122 اور کے ایم سی کا ہوتا ہے۔
ڈپٹی کمشنر سے سوالات
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ ہمارا خیال تھا فائر بریفیڈ اور ریسکیو شہری حکومت میں آتے ہیں۔ ہمیں کل پتہ چلا کہ ریسکیو 1122 صوبائی ھکومتُ کے تحت ہے۔ قانون میں صوبائی حکومت کے پاس یہ اختیار کس طرح ہے؟محکمہ بحالی کے تحت ریسکیو 1122 ہے۔ ہمیں یہ بتائیں کون ذمہ دار ہے، وزیر اعلی ہیں یا میئر ہیں؟ قانونی طور پر صوبائی یا شہری حکومت دونوں کا نہیں ہوسکتا۔ آرتیکل 140-A کے تحت یہ شہری ھکومت کا اختیار ہے۔ لا افسر سے کہا ہے کہ حکومت سے ہدایت حاصل کرکے بتائیں کہ یہ کسکا ڈومین ہے۔ سمری موو کی ہے کہ ایمرجنسی کے ادارے یکجا کیا جائے گا۔ کیا کوئی کمانڈ سینٹر بنایا گیا تھا؟ فی سی نے کہا کہ ایس ایس پی سٹی کے ساتھ ملکر کوآرڈینینگ کمانڈ سنبھال رہے تھے۔ ضلعی انتظامیہ کے افسران و ملازمین کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں تھیں۔ ہمارے پاس 79 مسنگ پرسن کی معلومات آئی۔ 7 فیملیز نے رابطہ تو کیا لیکن دوبارہ نہیں آئے۔ موجودگی کے شواہد کی بنیاد پر باقیات حوالے کیں۔ آئی بی سے بھی رپورٹ طلب کی۔ بہت سے ایسے کیسز تھے جنکی لاسٹ لوکیشن کسی اور علاقے کی تھی۔ تین کیسز زیر تحقیقات ہیں۔ 10 دن بعد ایک خاتون اپنے شوہر کی مسنگ کی اطلاع دی۔ ہم نے ڈی این اے سے کسی کو نہیں روکا۔
میونسپل کمشنر سمیرا خان طلب
سانحہ گل پلازہ کے انکوائر کمیشن نے میونسپل کمشنر سمیرا خان کو طلب کرلیا۔ کمیشن نے میئونسل کمشنر کو 23 فروری کیلئے نوٹس جاری کردیئے۔ سنیئر لینڈ ڈائریکٹر کمیشن کے سوالات کے جواب نہیں دے سکے۔ لہذا آپ پیش ہوکر عدالتی کمیشن کے سوالات کا جواب دیں۔ کمیشن نے ڈائریکٹر سول ڈیفنس کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کردیئے۔ کمیشن نے کارروائی پیر تک ملتوی کردی۔
سماعت کے دوران سینئر ڈائریکٹر لینڈ کمیشن کے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر رہے، جس پر کمیشن نے اطمینان بخش جوابات نہ دینے پر سینیر ڈائریکٹر لینڈ کی سرزنش کی اور میونسپل کمشنر سمیت سول ڈیفنس کو طلبی کے نوٹس جاری کردیئے۔