غربت 29 فیصد ہوگئی، 7 کروڑ افراد انتہائی غریب، دولت کی عدم مساوات میں اضافہ؛ سرکاری سروے

پاکستان میں اس وقت سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی صرف 8,484 روپے تک ہے


شہباز رانا February 20, 2026

اسلام آباد:

پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر29 فیصدتک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 11برسوں کی بلندترین شرح ہے۔لوگوں کی آمدن میں عدم مساوات بھی گزشتہ 27 برسوں کی بلندترین شرح پر ہے ۔

یہ بات جمعے کو جاری سرکاری سروے رپورٹ میں بتائی گئی ہے جو وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے جاری کی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 7برسوں کے دوران لوگوں کی حقیقی آمدن اور اخراجات میں بڑی تنزلی دیکھی گئی ہے، پاکستان میں اس وقت سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی صرف 8,484 روپے تک ہے۔

سال 2018-19ء سے 2024-25ء کے عرصہ کے دوران غربت میں32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2019ء میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی جو2024-25ء میں بڑھ کر28.9 فیصد ہوگئی،2014  کے بعد یہ بلندترین شرح ہے جب غربت کی شرح 29.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔سب سے خطرناک صورتحال دولت کی عدم مساوات ہے جو بڑھ کر32.7 تک پہنچ چکی ہے۔

اس سے قبل دولت کی عدم مساوات کی سب سے بلند شرح 1998ء میں ریکارڈ کی گئی تھی جو31.1 فیصد تھی۔پاکستان کو اس وقت 21 سال میں بیروگاری کی بلندترین شرح کا سامنا ہے جو 7.1 ہوچکی ہے۔اسی طرح غربت گیارہ برسوں کی بلندترین شرح پر ہے جبکہ دولت کی عدم مساوات 27 برسوں کی بلندشرح پر پہنچ چکی ہے۔یہ سب حکمران اشرافیہ کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والے سبسڈیز کو واپس لینا پڑا ،جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرمیں بھی گراوٹ آئی ۔

اس کے علاوہ کورونا سمیت دیگر قدرتی آفات اوراقتصادی شرح نمو میں کمی بھی غربت بڑھنے کی وجوہات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ غربت میں کمی کے رجحان کا پہیہ الٹا گھوما ہے اور اس کے برے اثرات حکومت کی پالیسیوں اور لوگوں کی سماجی ومعاشی زندگیوں پربھی نظر آئے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر  36.2فیصد،شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر17.4فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں گزشتہ سات برسوں کے دوران غربت کی شرح 41 فیصد اضافے کے ساتھ 16.5سے بڑھ کر 23.3فیصد ،سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد،خیبرپختونخوا میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد جبکہ بلوچستان میں 42 فیصد سے 12.4 فیصد اضافے کے ساتھ 47 فیصد ہوچکی ہے۔

لوگوں کی حقیقی ماہانہ آمدنی جو 2019ء میں 35,454 روپے تھی گزشتہ مالی سال تک 12 فیصد کمی کے ساتھ گر کر31,127 روپے رہ گئی ہے۔لوگوں کے ماہانہ اخراجات 31,711 روپے سے گرکر 29,980 روپے ہوگئے ہیں۔اسی طرح پنجاب میں دولت کی عدم مساوات 28.4 فیصد سے بڑھ کر32 فیصد ،سندھ میں 29.7  فیصد سے بڑھ کر 35.9 فیصد،خیبرپختونخوا میں 24.8 فیصد سے بڑھ کر 29.4 فیصد جبکہ بلوچستان میں21 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد ہوچکی ہے۔

لیبرمارکیٹ کا بھی برا حال ہے،بڑے پیمانے کی صنعتوںکی پیداوار کورونا وبا کی پہلے کی سطح پر رکی ہوئی ہے جہاں سے اب روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہورہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بیروزگاری اور کم پیداواریت سے غربت بڑھی ہے،صرف 90 لاکھ پاکستانی جو بیرون ملک مقیم ہیں 40 ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ بھیج رہے ہیں باقی24 کروڑ کی آبادی 40 ارب ڈالر کے برابر ایکسپورٹ کے بھی قابل نہیں۔

حکومت کی طرف سے شروع کی گئی اصلاحات نے غربت کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی ہے لیکن اس صورتحال سے نکلنے کیلئے ہمیں پائیدارروزگارکی ترقی ،حقیقی آمدنی کو بحال کرنے سماجی تحفظ کی طرف جانا ہوگا۔

مقبول خبریں