اسلام آباد ہائیکورٹ نے طارق جہانگیری کو برطرف کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

احتساب اداروں کو کمزور نہیں مضبوط کرتا ہے، آزاد، اہل اورقابل اعتماد عدلیہ کے بغیرانصاف تک رسائی محض سراب ہے، فیصلہ


فیاض محمود February 23, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد ہائیکورٹ نے طارق محمود جہانگیری کو بطور جج برطرف کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان نے اپنے ساتھی جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو بطور جج عہدے سے برطرف کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

116 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس اعظم خان نے تحریر کیا۔ جس میں لکھا گیا ہے کہ احتساب اداروں کو کمزور نہیں مضبوط کرتا ہے، آزاد، اہل اورقابل اعتماد عدلیہ کے بغیرانصاف تک رسائی کا حق محض سراب ہے۔

تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ عدالتیں ججوں کی سہولت کیلیے نہیں،معاشرے کے فائدے کیلئے بنائی گئی ہیں، غیرقانونی منصب کی بنیاد پر پورا عدالتی ڈھانچہ کمزور ہوجاتا ہے۔ عدالتی ڈھانچہ کمزور ہو تو سائلین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ججوں کی شفاف طریقے سے تقرری بنیادی حق انصاف کے تحفظ کا لازمی جزوہے۔ عدلیہ میں آئینی معیارات کے نفاذ سے عدالتیں اپنی آزادی کا تحفظ کرتی ہیں۔ انتظامی منظوری یا بعد کی توثیق بنیادی اہلیت کا متبادل نہیں۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ وکیل کا لائسنس بنیادی تعلیم نقص دور نہیں کرسکتا۔ درست اور قانونی ایل ایل بی ڈگری نہ ہو تو تقرری ابتدا سے باطل ہوگی۔ غلط تقرری کو بعد کی انتظامی کاروائیوں سے درست نہیں کیا جاسکتا۔ عوامی عہدہ صرف قانونی اہلیت رکھنے والا شخص ہی سنبھال سکتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ طارق جہانگیری کی بطور جج تقرری کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

مقبول خبریں