امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کی زندگیوں کے بارے میں پریشان کن افواہیں زیر گردش ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان افواہوں پر کھل کر گفتگو کی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ میری معلومات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بالکل خیریت سے ہیں۔
البتہ انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ممکن ہے ہمارے ایک یا دو فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے ہوں لیکن تقریباً تمام اعلیٰ حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کشیدگی میں کمی چاہتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اور اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں بند کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا دوبارہ ایران سے بات چیت شروع کرنا چاہتا ہے تو صدر ٹرمپ کو معلوم ہے کہ رابطہ کیسے اور کس طرح کرنا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات موجود تھیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے تحت کی گئی جس کا مقصد ایرانی قیادت اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔
ادھر ایرانی سرکاری میڈیا اور حکام نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے میں کئی اعلیٰ سیاسی رہنما اور فوجی کمانڈر مارے گئے۔
ایرانی فوج نے کہا کہ آرمی چیف عامر حاتمی کی ہلاکت کی خبریں غلط ہیں اور وہ بدستور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
صدر مسعود پزیشکیان کے قریبی ذرائع نے بھی بتایا کہ ایرانی صدر محفوظ ہیں اور ان پر ہونے والی مبینہ قاتلانہ کوشش ناکام رہی۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران میں متعدد مقامات پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں جن میں 75 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
اسرائیل نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے لڑکیوں کے پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا جس میں طالبات اور عملے سمیت 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، قطر، بحرین وغیرہ میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔