ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈّوں کو نشانہ بنانے کے بعد اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اب تک ایران کی جانب سے تقریباً 150 بیلسٹک میزائل اور درجنوں حملہ آور ڈرون اسرائیل کی طرف داغے گئے۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے یہ میزائل مختلف لہروں کی صورت میں وقفے وقفے سے داغے جن میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
اسرائیلی حکام نے بتایا کہ آئرن ڈوم اور دیگر میزائل دفاعی سسٹمز پر مشتمل فضائی دفاعی نظام نے اکثر میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔
تاہم کچھ میزائل کھلے علاقوں میں گرے جبکہ کئی مقامات پر میزائلوں اور انٹرسیپٹرز کے ملبے کے ٹکڑے بھی گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
ترجمان اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے درجنوں حملہ آور ڈرون بھی داغے گئے جن میں سے ایک درجن سے زائد کو فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔
میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو فوری طور پر زیرزمین پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت دی گئی۔
کئی شہروں میں لوگ میٹرو اسٹیشنز اور دیگر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کئی افراد کو معمولی زخمی حالت میں طبی امداد دی گئی جن میں سے زیادہ تر افراد پناہ گاہوں کی طرف جاتے ہوئے زخمی ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران میں متعدد مقامات پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں جن میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
اسرائیل نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے لڑکیوں کے پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا جس میں طالبات اور عملے سمیت 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، قطر، بحرین وغیرہ میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔